fbpx

بہتری کی گنجائش تحریر: سہیل احمد چوہدری

شروع کرتے ہیں 80 سے 90 کے دور سے.
میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن
علاقے میں پرائیویٹ سکول وہ بھی بابا جی کے نام سے مشہور تھا.مزاج بہت کڑک , شاید بزرگ ہوتے ہی کڑک تھے. اس وقت ایک بہترین نظام چل رہا تھا .سرکار ہو یاں پرائیویٹ بندہ .ہر ایک گود سے لے کر گور تک اپنے اپنے دائرے میں لگے ہوئے تھے. ہاں بات لوڈ شیڈنگ کی تو اس وقت بھی ہوا کرتی تھی. آبادی کم ہونے پر علاقے اور مکان اس طرح ترتیب دیئے جاتے تھے کہ ٹھنڈے رہیں. ماحول اور صحبت کا واقعی اثر ہوتا ہے
گھر میں ماں باپ بوڑھے بزرگوں سے فاصلے پر بیٹھتے تھے.اور بہو کی تو جرآت نام کی کوئی چیز نہیں ہوا کرتی تھی. اللہ کی رحمت صبح صادق کو نماز سے دن کا آغاز ہوا کرتا تھا بچوں کو مساجد میں نماز کے ساتھ ساتھ قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا. اسکے فورا بعد ناشتہ اور سکول کی تیاری ہوا کرتی تھی. سکول سے واپس آکر گلی میں کرکٹ یاں کوئی کھیل کود کے بعد پڑھائی پھر کھانا اور پورا گھر ایک بلیک اینڈ ٹی وی پر 8 بجے ڈرامہ اور پھر 9 کے بعد پردہ دار خاتوں گھر کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر بھی دکھائی دیتی تھی وہ بھی دن بھر کی خبروں کا مجموعہ.پھر گھر اور ٹی وی ٹرالی کے دروازے بند کر دیئے جاتے تھے. اس وقت 10 دس بچے ماں پالتی تھی اور گھر والوں کی تابعداری میں اعلئ مقام بھی پاتی تھی.جب کہ اب سینکڑوں چینل .مختصر اولاد .ہر ایک کا اپنا کمرہ. یو پی ایس . جنریٹر.موٹر سائیکل .کار .جیپ اے سی. سب سہولتیں پھر بھی ناشکری عام طور پر گھر سے باہر کا کھانا عام روٹین.ساس سسر کی کوئی روک تھام نہیں . اتنی سہولتیں پھر بھی ہم خسارے میں کیوں.
وغیرہ وغیرہ
اتفاق ہی اتفاق بڑے بوڑھے کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت پر تربیت پر گھر سے لے کر تعلیمی میدان سے رہنما کو مقام دیا جاتا تھا.
آج ہم بہت آگے چلے گئے ہیں پر تعلیم کیلیے آج بھی 4 سال بعد بچہ کچھ بولنا سیکھتا.
خیر اس وقت نام لے کر ریفرنس دیا جاتا تھا
یہاں تک کہہ محلے میں اگر کسی کے ہاں کوئی خوشی غمی آتی تو رشتہ داروں کی صرف سیوہ کی جاتی باقی کام محلے دار ہی کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے.
ریاستی ادارے اپنے کاموں میں لگے رہتے اور عوام اپنی زمہ داریاں بخوشی انجام دیتے تھے.
تہزیب .تربیت .اور تعلیم . شعور کی بھٹی میں پکا کر ماں باپ سے لے کر استاد ایک مہزب انسان معاشرے میں اتارتے تھے.
اچھی طرح یاد ہے.کہ ایک مرتبہ چینی ایک روپے مہنگی ہوئی تھی تو لوگ میدان میں آئے تو حکومت کو وہ فیصلہ واپس لینا پڑا تھا.
بالکل یوپین ممالک جیسا احتجاج نوٹ کروایا جاتا تھا.
علاقے کا ایک بڑا بزرگ منتخب کرکے علاقے کے مسائل حل کروائے جاتے تھے.
جب کہ آج کل کوئی کسی کو بڑا نہیں سمجھتا.ہر کوئی نواب.
کوئی مسئلہ آئے تو شاید کچھ ایسے افراد جن کی تربیت پرانے لوگوں نے کی وہ شاید اپنی عادت سے مجبور ہو کر کچھ سوشل ورک کر لیتے پر اب ان کو بھی کوئی شاباشی نہیں ملتی . بے حسی نے پنجے گاڑ لیے ہیں .
اب حکومت کسی چیز کا ریٹ بڑھاتی تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی. شاید حرام کی کمائی والے کو ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں .
رات لیٹ سونا. صبح دیر سے جاگنا.
رہی سہی کسر چھوٹے بڑے میں تمیز بھی ختم
بالآخر قصور کس کا.
میں بہت فکر کرتا ہوں دوسروں کی طرف دیکھ کر غصہ بھی بہت آتا ہے.کیونکہ گھر سے لے کر سکول , سکول سے لے کر جاب .ہر جانب سخت اساتذہ سے واسطہ پڑا . شاید یہ اس وقت کی ریت ورواج تھا. آج بھی ماتحت ملازمین سخت رویے کی بدولت سر پھرا بھی کہتے ہیں .کیا کریں .ہم تو اپنی تربیت بولے تو بنیاد پر کھڑا رہنے پر مجبور .ورنہ نئی تعمیر ہونے والی بلڈنگ کے میٹریل اور ڈھانچے سے تو سب واقف اور پریشان وہ بھی بے تحاشہ خرچ کرکے.
بنکوں نے قسطوں پر چیزیں دے دے کر عوام میں حرام حلال کی تمیز ختم کر دی ہے.
آخر میں ہم سب یہی دسکس کرتے ہیں کہ بچوں کا کیا بنے گا.کیونکہ تعلیم .اور روزمرہ اخراجات نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا.
جو سب سے اہم چیز شاید ہم بھول رہے ہیں اور مسلسل نظر انداز بھی کر رہے ہیں وہ ہے تربیت ,
جس پر بہتری کی گنجائش تو ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے
وہ تو ہم کر سکتے ہیں .جب توبہ کا دروازہ آخری سانس تک کھلا ہے تو پھر غم کاہے کا .ہم کوشش تو کر ہی سکتے ہیں کیا خیال.
اب آپ کی باری
@iSohailCh