fbpx

بیمار قیدی کی درخواست پر چیف جسٹس نے ایسا کیا کہہ دیا کہ جیل حکام کی دوڑیں لگ گئیں

بیمار قیدی کی درخواست پر چیف جسٹس نے ایسا کیا کہہ دیا کہ جیل حکام کی دوڑیں لگ گئیں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں بیمارقیدی کی درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے سماعت کی، اڈیالہ جیل کے پولیس افسران اورڈاکٹرزعدالت میں پیش ہوئے،

دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اڈیالہ جیل کے دورے کیا فیصلہ کیا اور کہا کہ آئندہ جمعہ اڈیالہ جیل کا دورہ کروں گا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں ںہ قیدیوں کوحکومت کیخلاف کیس فائل کرنے کا کہیں، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے جوائنٹ سیکرٹری صحت کی سرزنش بھی کی. عدالت نے سیکرٹری صحت کو تنبیہ کی اور کہا ایسے بیانات نہ دیں،

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قیدی حکومت کی قیدمیں ہیں،ذمہ دارحکومت ہے،جیلوں میں کتنی کرپشن ہےآپ کواندازہ ہے، 1500 والی جگہ پر 4 ہزارلوگوں کی موجودگی تشویشناک ہے،

عدالت نے حکم دیا کہ صحت سےمتعلق عالمی وملکی قوانین پیش کریں، اڈیالہ جیل کے کوریڈورمیں بھی لوگ سوتےہیں، اڈیالہ جیل کی وارڈزسے نالے گزرتے ہیں،عدالت نےکیس کی سماعت 14 دسمبرتک ملتوی کردی

نوازشریف 2 دن میں چلے گئے،ایک قیدی 6 سال سے واپس نہیں لا سکے، سیکرٹری داخلہ،خارجہ کو جیل بھیجوں گا، عدالت

اڈیالہ جیل کے قیدی خادم حسین نے چیف جسٹس ہائیکورٹ کوخط لکھا تھا .چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھے گئے خط میں قیدی نے کہا کہ بینائی کا مسئلہ ہے،آنکھوں کےعلاج کی سہولت دی جائے،-

نواز کے لندن جانے کے بعد دیگرقیدیوں کی بھی سن لی گئی، وزیراعظم کا بڑا حکم،

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں جیلوں میں 10 ہزار بیمار قیدیوں نے طبی بنیاد پر رہائی کی درخواست دائر کی تھی ، درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نوازشریف کی طرح بیمار قیدیوں کو طبی بنیاد پر ضمانت دی جائے۔ بعد ازاں لاہورہائی کورٹ نے درخواست چیف سیکریٹری پنجاب کو بھجوا دی تھی اورچیف سیکریٹری پنجاب کو درخواست پر فیصلے کی ہدایت کی تھی، عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ جیلوں میں 10 ہزارسے زائد قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جیلوں میں قیدیوں کو علاج کی مناسب سہولتیں میسر نہیں ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.