fbpx

سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کو15 برس بیت گئے

سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے قتل کو15 برس بیت گئےمگر اس قتل کا معمہ تاحال حل نہیں ہوسکا ملکی تاریخ کا یہ اہم کیس آج بھی لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں زیر التواء ہے۔

باغی ٹی وی : سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو لیاقت باغ میں تاریخی جلسہ کے بعد واپس جاتے ہوئے لیاقت باغ کے مرکزی گیٹ پر27 کارکنوں سمیت 27 دسمبر2007 کو خود کش حملے میں شہید ہوئیں۔

ذوالفقار علی بھٹو سے دختر مشرق کا سفر طے کرنے والی بےنظیر، پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ایک عہد تھیں جو 27 دسمبر 2007 کو تمام ہوا 21جون 1953 کو کراچی میں پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے ہاں پیدا ہونے والی پنکی ملکی سیاست کا ایک درخشاں ستارہ بنی صرف نام ہی نہیں ان کے کام بھی بے نظیر تھے ۔ جوانی میں قدم رکھا تواعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ اور امریکہ کا انتخاب کیا۔

اپنے والد ذوالفقارعلی بھٹو کی قید سے لے کر پھانسی تک آمریت کے دور میں بینظیر بھٹو نے ہر مصیبت اور مشکل کا ثابت قدمی اوردلیری سے مقابلہ کیا 1986 میں بینظیر بھٹو جلاوطنی کاٹ کر واپس وطن لوٹیں تو پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بن کر سیاست میں باقاعدہ قدم رکھا اور 1987 میں آصف علی زرداری کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔

بینظیر بھٹو 1988 میں پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں تاہم ان کی حکومت زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکی اور 20 ماہ بعد ہی ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا1993ء میں ایک بار پھر حکومت ملی لیکن 3 برس بعد 1996 میں انہیں اقتدار سے محروم کردیا گیا۔

سندھ حکومت کا 27 دسمبر کو صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان

1998ء میں بینظیر بھٹو خودساختہ جلاوطن ہو گئیں اور کبھی لندن تو کبھی دبئی میں سکونت اختیار کی 18 اکتوبر 2007 کو بینظیر بھٹو وطن واپس تشریف لائیں تو کراچی ایئرپورٹ پر لاکھوں کارکنوں نے ان کا تاریخی استقبال کیا ۔

بینظیر بھٹو کو کراچی ایئرپورٹ سے قافلے کی صورت میں لے جایا گیا، اس دوران کارساز کے مقام پر ان کے قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا، اس حملے میں درجنوں کارکن لقمہ اجل بنے تاہم بینظیر بھٹو محفوظ رہیں۔

27 دسمبر 2007 کو بینظیر بھٹو راولپنڈی کے مشہور لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب کے بعد واپسی کے دوران کارکنوں کے نعروں کا جواب دینے کے لیے جونہی گاڑی سے سر باہر نکالا تو قاتل نے گولی چلا دی اور یوں دختر مشرق ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو گئیں۔

بے نظیر بھٹو قتل کیس سے متعلق پولیس،ایف آئی اے،اسکاٹ لینڈ یارڈ،اقوام متحدہ سے4 انکوائریاں ہوئیں،7چالان پیش کئے گئے،12ججز تبدیل ہوئے291پیشیاں ہوئیں57گواہ پیش ہوئے،جن 5 گرفتار شدگان کو پولیس نے اصل ملزم قرار دیا انسداد دہشت گردی عدالت نے یہ پانچوں بے گناہ قرار دے کر بری کر دیئے۔

عدالت نے 2پولیس افسران اس وقت کے سی پی او سعو د عزیز اور ایس پی خرم شہزاد کو صرف ناقص سیکورٹی پر دس دس سال قید کی سزا دی،اس وقت یہ دونوں پولیس افسران ضمانت پر رہا ہیں ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں 2023 جنوری کے آخر میں اس کیس کی سماعت متوقع ہے،دیکھنا یہ ہے ہائی کورٹ کیا فیصلہ کرے گی۔

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 15ویں برسی گڑھی خدابخش بھٹو میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی،جلسہ عام سے وزیر خارجہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری،شریک چیئرمین سابق صدرآصف علی زرداری سمیت دیگر مرکزی و صوبائی قائدین خطاب کریں گے سندھ حکومت کی جانب سے 27 دسمبرکو بے نظیر بھٹو کی برسی کے سلسلے میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے-

وزیر محنت و افرادی قوت سندھ و صدر پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی کراچی سے 150 سے زائد بسوں پرمشتمل قافلے کے ساتھ لاڑکانہ گڑھی خدا بخش روانہ ہوئے ہیں۔

کرکٹ بورڈ میں سیاست نہیں ہونی چاہیے،نجم سیٹھی کوایڈجسٹ کرنےکیلئےکرکٹ بورڈ کا آئین بدلا گيا،رمیز راجہ

سعید غنی کا کہنا ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 15 ویں برسی کے سلسلے میں 27 دسمبر کو دوپہر 2 بجے ایک جلسہ عام منعقد کیاجائے گا،پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے تحت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی مزار پرچادر چڑھائی جائے گی۔

علاوہ ازیں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش بھٹومیں پیپلزپارٹی نے جلسے کا پنڈال تیارکرلیا ہے جبکہ گڑھی خدابخش بھٹو، نوڈیرو اور لاڑکانہ میں استقبالیہ کیمپس قائم کردیئے گئے ہیں جلسہ عام کے اطراف میں واک تھروگیٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کردیئے ہیں، سیکیورٹی کے لئے 8 ہزار سے زائد اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

شہید بے نظیربھٹو کی برسی کے موقع پرکراچی سمیت ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام تعزیتی اجتماعات اور مختلف تقریبات منعقد کی جائیں گی جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی جائے گی۔