fbpx

بے حسی کی بیماری تحریر : شاہ زیب

ایک وقت تھا ہر چیز سانجھی ہوتی تھی۔ کسی محلے کے کسی گھر میں ایک فرد کو تکلیف ہوتی تھی تو سب کو اس کی فکر ہوتی تھی اور اگر کسی کے گھر میں کوئی  مسئلہ ہوتا تو لوگ اپنا مسئلہ سمجھ کر نہ صرف ان لوگوں کو تسلی دیتے تھے بلکہ اس مسئلے کے حل میں مدد بھی کرتے تھے، کسی دوسرے کے گھر کی خوشی کو لوگ اپنی خوشی سمجھتے تھے، اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے گویا تمام لوگ آپس میں اس طرح جڑے ہوئے تھے کہ ام کی خوشیاں اور پریشانیاں بھی مشترکہ ہوتی تھیں۔۔۔

اس کے برعکس آج کا جدید دور جہاں ساتھ ہمسائے کو ہمسائے کی خبر نہیں۔ کسی ایک گھر میں کھانا ضائع ہو رہا تو ساتھ گھر میں بچے بھوکے سو رہے ہم ماڈرن بننے کے چکروں میں بے حس ہوتے جا رہے (آسان لفظوں میں انسانیت بھول بیٹھے ) پرائیویسی کے نام پر لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

ماڈرن ازم اور پرائویسی کے نام پر بے حس بننے سے معاشرہ انتشار کا شکار ہوا جس سے ہماری روایات دَم توڑ گئیں، وہ خوبصورت روایات جس میں اہل محلہ ہی خاندان تصور ہوتے تھے سب مل جل کر رہتے تھے ہر طرف امن اور پیار محبت کی فضا تھی بدقسمتی سے اب ایسی روایات ڈھونڈنے پر بھی نظر نہیں آتیں اور لوگ ان چکروں میں ایکدوسرے سے دور ہوتے جارہے کسی کو ایک دوسرے کی فکر نہیں سب کو اپنی زات کی فکر ہے،

یقین کریں آج ہمارے سامنے کوئی انجان شخص حادثے کا شکار ہوجائے تو بجائے اس کی مدد کرنے کے ہم لوگ اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اس کی جان بچانے کی بجائے ہم  لائک کی فکر لاحق ہوتی ہے سامنے والی پریشانیاں ہمارے لیے محض کچھ نہیں ہوتی بلکہ ایک ڈرامہ ہوتا ہے، جسے دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی تشہیر کرنا فرض سمجھتے۔۔!!

بے حسی اور نفسا نفسی کا یہ عالم دیکھ کر بوڑھے والدین جو ساری عمر محنت مشقت کر کے اس قابل بناتے اب اس دور میں انکو بوجھ سمجھا جانے لگا جس سے بچے جلد از جلد چھٹکارا پانے کے لیے انکو اولڈ ایج ہوم بھیج دیتے۔۔

ہمارے میڈیا میں دن رات ایسے واقعات اور حالات دکھائے جاتے معاشرتی بے حسی کے واقعات دیکھ کر روح کانپ اٹھتی کہ انسانیت کہا غائب ہو کر رہ گئی

ہماری مشرقی اقدار اور اسلامی روایات سے دوری کی وجہ سے آج ہم اخلاقی طور پر زوال کا شکار ہیں۔ 

کسی دوسرے کو تبلیغ کرنے اور سمجھانے سے پہلے ہمیں خود سمجھنے کی ضرورت ہے، ہم ذاتی طور پر ٹھیک ہونگے تو معاشرہ بھی ٹھیک ہوگا۔

ہم آج اپنی بے حسی ختم کریں گے تو ایک نہ ایک دن یہ معاشرہ جس میں ہم سب رہتے ہیں اس کی بے حسی بھی ختم ہوجائے گی اور لوگ ویسے ہی ایک دوسرے کی دکھ سکھ تکلیفوں کو اپنی سمجھیں گے جس طرح پہلے سمجھتے تھے۔۔شکریہ

@shahzeb___

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!