بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے: الطاف حسین وانی

Press Release
Sunday, April 12, 2020.

بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے: الطاف حسین وانی
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا

اسلام آباد: معروف حریت رہنما اور سینئر وائس چیئرمین جموں کشمیر نیشنل فرنٹ (جے کے این ایف) الطاف حسین وانی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی پامالیوں اور انکے بہیمانہ قتل عام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برداری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا فی الفور نوٹس لے۔

اتوار کے روز یہاں جاری ایک بیان میں، جے کے این ایف رہنما نے کہا، ”وادی طول و عرض میں تعینات ہندوستانی قابض فورسز نے مقبوضہ خطے کو ایک قتل و غارت گری کے میدان میں تبدل کر دیا ہے جہاں صبح و شام بے گناہ شہریوں کوبے رحمی سے شہید کیا جاتا ہے۔
”.
ہندوستانی ریاستی دہشت گردی کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے کہا، ”کشمیری نوجوانوں کا قتل قابض فوج کے لئے ایک نیا معمول بن گیا ہے جو متنازعہ علاقے میں نافذ مختلف کالے قوانین کے تحت استثنیٰ سے لطف اندوزہورہے ہیں۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ کالے قوانین کے تحت فوجی جوانوں کو قانونی چارہ جوئی سے چھٹکار ادر حقیقت جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں حقوق کی پامالی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

مسٹر وانی نے بھارتی قابض افواج کے ذریعہ تشدد اور عوامی املاک میں توڑ پھوڑ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”کشمیری عوام جنہوں نے سات ماہ سے طویل عرصے سے فوجی محاصرے اور معلومات کی ناکہ بندی برداشت کی ہے، اب انہیں بھارت کی طرف سے اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔” ایک ایسے وقت میں جب مہذب دنیا COVID-19 کے خلاف جنگ میں مصروف ہے،دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت (بھارت) کشمیریوں کو محکوم بنانے کی بے دریغ سازش کر رہی ہے جس نے ہندوستان کے سامراجی ایجنڈے کو مسترد کردیا ہے اور اس کی مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم اسکیم کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنہائی افسوسناک بات ہے کہ کورونا وائرس قابض حکام کے لئے کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈالنے کے لئے ایک نیا آلہ گیا ہے۔

وانی نے ایک نیوز رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی فوج وادی میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کو ان کے فون ریکارڈز، اے ٹی ایم ہسٹری اور دیگر معلومات کا استعمال کرکے پریشان کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سخت نگرانی کا عمل قابض حکام کے ذریعہ کرونا وبائی امراض کے تحت کیا جارہا ہے اس حقیقت کے باوجود کوئی قانون انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ کشمیریوں کی پریشانی جو وبائی امراض اور ایک عسکری ریاست کے مابین پھنس چکے ہیں، خاص طور پر 5 اگست 2019 کے بعد جب ہندوستان نے آئینی دہشت گردی کا سہارا لے کر اس خطے کو اپنی خودمختار حیثیت سے الگ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور کبھی نہ ختم ہونے والی گھریلو تلاشی، فوجی کریک ڈاؤن اور بھارتی فوج کی رات کے چھاپوں نے کشمیریوں کی زندگی کو زندہ جہنم بنا دیا ہے۔

مقبوضہ علاقے میں بگھڑتی ہوئی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے جے کے این ایف رہنما نے کہا کہ بھارت نے کنٹرول لائن (ایل او سی) پر جان بوجھ کر تناؤ بڑھایا ہے۔ وانی نے بھارتی جارحانہ عزائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ”مہلک وبا سے لڑنے کے لئے مہذب دنیا کیجانب سے کی جانی والی کوششوں میں شامل ہونے کے بجائے،بھارت نے کنٹرول لائن پر بے گناہ شہریوں کوقتل کرنے کے اپنے مذموم منصوبے پر عملدرآمد کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ ”۔ جے کے این ایف کے رہنما نے شہری آبادی کے خلاف بھارتی جارحیت کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کی صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں۔

وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے پر بھی پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو صورتحال کا موثر نوٹس لینا چاہئے اور اس تنازعہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں مدد کرنا چاہئے۔

مسٹر وانی نے کشمیری سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے بھی اظہار تشکر کیا جس نے ان قیدیوں کی رہائی کے لئے آواز اٹھائی ہے۔

For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.