fbpx

بھارت نےکشمیری صحافی کودہشت گردی کے الزام میں گرفتارکرلیا

سری نگر: بھارت نے کشمیری صحافی فہد شاہ کودہشت گردی کے الزام میں گرفتارکرلیا۔

باغی ٹی وی : کشمیری میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں نیوز پورٹل کے ایڈیٹر فہد شاہ کودہشتگردی کے الزام میں گرفتارکرلیا گیا مودی سرکارکے حکم پرفہدشاہ کوگرفتارکرنے والی مقبوضہ کشمیرکی کٹھ پتلی انتظامیہ نے بیان میں فہدشاہ پرسوشل میڈیا پوسٹس اورنیوز رپورٹس کے ذریعے لوگوں کودہشت گردی پراکسانے، دہشتگردی کی تعریف کرنے اورجعلی خبریں پھیلانے کے الزامات عائد کئے۔

فہد شاہ کے نیوز پورٹل پرجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فہد شاہ کوجنوری 2020 میں پولیس چھاپوں سے متعلق رپورٹ شائع کرنے پرپولیس اسٹیشن طلب کیا گیا تھا جہاں انہیں گرفتارکرلیا گیا۔

سری نگر:دہشتگردی کی مالی معاونت کے الزام میں کشمیری رہنما خرم جاوید گرفتار

صحافیوں اورانسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے فہدشاہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایڈیٹرز گلڈز آف انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کے صحافی فہد شاہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جمہوریت کے اقدار کی عزت کرے اور صحافیوں کو ہراساں کرنا بند کرے فہد شاہ ایڈیٹر نیوز پورٹیل کشمیر والا کو چار فروری کو گرفتار کیا گیا تھا-

بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید

انڈین ایڈیٹرز نے کہا کہ فہد شاہ کو دہشت گردی کے واقعات کو پیش کرنے پر کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا تھا انہوں نے حال ہی میں پلوامہ میں ہونے والے ایک پولیس مقابلے کی رپورٹنگ کی تھی۔ دی ایڈیٹرز گلڈز آف انڈیا کے ارکان نے فہد شاہ کو کئی مرتبہ سیکیورٹی آفس میں طلب کر نے اور گرفتار کرنے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں فورا رہا کیا جائےان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔-

بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی جاری،جیش محمد کے کمانڈر زاہد وانی سمیت پانچ حریت پسند شہید

واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی نے دہشتگردی کی مالی معاونت کے الزام میں کشمیری رہنما خرم جاوید کوگرفتارکرلیا تھا بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے سرینگرمیں کشمیریوں کے حقوق کے لئے آوازاٹھانے والے خرم پرویز کے گھراوردفترپرچھاپہ مارتے ہوئے دہشتگردوں کی مالی معاونت کے الزام میں خرم پرویز کوگرفتارکیا تھا این آئی اے کے افسران نے جے کے سی سی ایس کے دفاتر کی 14 گھنٹے سے زیادہ تلاشی لی تھی-

وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر ازقلم:غنی محمود قصوری

این آئی اے نے گرفتاری کے دوران خرم پرویز کا موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ان کے موبائل فون کے ساتھ چند کتابیں بھی ضبط کر لیں اور کہا تھا کہ یہ ‘دہشت گردی کی فنڈنگ’ کا معاملہ ہے۔

یاد رہے کہ سال 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں درجنوں صحافیوں کو پولیس باقاعدگی سے طلب کرتی ہے اور ان کے کام کے حوالے سے پوچھ گچھ کرتی ہے مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں پردہشتگردی کے الزامات لگا کرانہیں ہراساں کرنے، صحافیوں کی گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یوم یکجہتی کشمیر پر مشعال ملک سب کی شکر گزار