fbpx

بھانجوں نے گھرمیں گھس کرماموں اوراسکی بیٹی کوماریں گولیاں،پولیس نے کروائی یقین دہانی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ نیلور کے ایس ایچ او ملک لیاقت نے ملزمان کے گھر چھاپہ مارتے ہوئے زخمی مدعی کے گھر جا کر ملزمان کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے

ملزمان نے مدعی کے گھر جا کر گولیاں چلاتے ہوئے گھر کے دو افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ ڈھوک چھاپر میں بھانجوں نے گھر میں گھس کر ماموں اور اس کی بیٹی کو گولیاں مار دیں۔ مدعی مقدمہ محمد سفارش کا کہنا تھا کہ میرے بھانجے طلعت اور زعفران نے رات کو میرے گھر کے دروازے کو دستک دی۔میں نے دروازہ کھولا اور ان کو بیٹھک میں بٹھا دیا۔زعفران دونوں کے پاس اسلحہ موجود تھا۔طلعت کے پاس کلاشنکوف تھی۔ اور زعفران کے پاس 30 بور پسٹل تھا۔دونوں نشے میں تھے۔مجھے گالی گلوچ کرنے لگے اور میرے اوپر فائرنگ شروع کر دی۔ طلعت نے کلاشنکوف سے تین گولیاں میری ٹانگ میں مار دی۔زعفران کی فائرنگ سے میری بیٹی زخمی ہو کر زمین پر گر گئی۔

دونوں نے ہمارے گھر میں گھس کر ہمارے اوپر فائرنگ کرکے مجھے اور میری بیٹی کو زخمی کر کے بہت زیادتی کی ہے۔تھانہ نیلور پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 244/22 بجرم 324/452/427/34 درج کر کے تفتیش شروع کی۔ایس ایچ او ملک لیاقت ہمراہ اے ایس آئی امتیاز بمعہ پولیس ٹیم نے گزشتہ رات ملزمان کے گھر چھاپہ مارا۔اور ایس ایچ او ملک لیاقت بحکم اعلی افسران کے مدعی کے گھر جا کر اس کی صحت کا پوچھا اور ملزمان کی گرفتاری کی مکمل یقین دہانی کروائی۔اس موقع پر تھانہ نیلور کے ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب ملزمان قانون کے شکنجے میں ہوں گے

معذور بچی کے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

20 سالہ لڑکی کو اغوا کر کے کیا گیا مسلسل دو روز گھناؤنا کام

بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

پیار کرنا بن گیا جرم،جوڑے کے گلے میں جوتوں کا ہار ڈال کرلگوایا گیا چکر

شادی کے بعد سسر کرتا رہا نئی نویلی دلہن کے ساتھ مسلسل گھناؤنا کام

بیوی کی سفاکی، شوہر کو ہتھوڑے کے وار سے قتل کروا کر سر اور ہاتھ بدن سے الگ کر لئے

والد،والدہ،بہن، بھانجے،ساس کو قتل کرنیوالا سفاک ملزم گرفتار

تبادلہ کروانا چاہتے ہو تو بیوی کو ایک رات کیلئے بھیج دو،افسر کا ملازم کو حکم

بچوں کے ساتھ بدفعلی، بنائی جاتی تھیں ویڈیو، خواتین بھی تھیں گھناؤنے کام میں شامل

دوسری جانب اسلام آباد میں چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ہر تھانے کی حدود میں روزانہ واداتیں ہو رہی ہیں، شہری غیر محفوظ ہو چکے ہیں، عوامی حلقوں نے سوال کیا ہے کہ کیاکسی پولیس افسر کو احساس نہیں۔ کیا تھانہ کی پولیس صرف سرکاری گاڑیوں اور سرکاری کرسیوں کے مزے لینے آتی ہے۔آئی جی اسلام آباد کو اس چیز کا نوٹس لینا چاہیے کہ کیا کر رہے ہیں ۔کیا تھانے کی حدود میں رہنے والے لوگ کسی اور سے جرائم کنٹرول کرنے کی اپیل کریں گے۔علاقے کی عوام کس کے پاس جائیں کس کو بولیں کہ ہماری چوروں، ڈکیتوں اور جرائم پیشہ عناصر سے جان چھڑائی جائے۔