fbpx

بھارت کا پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کا انکشاف

بھارت کی جانب سے اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کرانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

باغی ٹی وی:بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ مودی سرکار نے اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے ان 25 کشمیری رہنماؤں کی بھی جاسوسی کی جو دہلی کی سرکاری پالیسی کو تسلیم نہیں کرتے یہ عمل 2017ء سے 2019ء تک جاری رہا اور اس عمل میں بھارت کی ایک ایسی ایجنسی ملوث تھی جو اسرائیل کے این ایس او گروپ کی خدمات حاصل کرتی ہے۔

بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما سید علی شاہ گیلانی کے خاندان کے 4 افراد کے فونز کو ہدف بنایا گیا ان افراد میں سید علی گیلانی کے داماد، صحافی افتخار گیلانی اور ان کے سائنسدان بیٹے نسیم گیلانی بھی شامل تھے۔

یہی نہیں بلکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کا فون بھی نشانے پر تھا اور ان کے ڈرائیور اور انسانی حقوق کے رہنما وقار بھٹی کے فون کو بھی ہدف بنایا گیا حریت پسند رہنما بلال لون اور ایس اے آر گیلانی کے فون کا بھی اسرائیلی سافٹ ویئر کے ذریعے تجزیہ کیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کے خاندان کے 2 افراد کے فونز کی بھی جاسوسی کی گئی یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا جب محبوبہ مفتی مقبوضہ وادی کی وزیرِ اعلیٰ اور بی جے پی کی اتحادی تھیں۔

ان کے علاوہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے متعدد دیگر سیاست دان ، انسانی حقوق کے کارکن ، صحافیوں اور کاروباری شخصیات بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کے فون کی پیگاسس کے ذریعے جاسوسی کی گئی۔