بھارت میں‌ 32 سال تک فوج میں‌ ملازمت کرنے والے مسلم شخص اور خاندان کو غیر ملکی قرار دے دیا گیا

بھارت میں‌ 32 سال سے زائد عرصہ تک ہندوستانی فوج میں ملازمت کرنے والے مسلم شخص اور اس کے خاندان کو غیر ملکی قرار دے کر حراست میں‌ لے لیا گیا ہے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ثناء اللہ نامی شہری جسے غیر ملکی قرار دیا گیا ہے، وہ بھارتی فوج میں کیپٹین کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے تھے۔ مذکورہ شہری فوج میں ملازمت کے دوران مقبوضہ کشمیراو رشمال مشرقی ریاستوں میں مختلف کاروائیوں اور آپریشن میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے رضاکارانہ سبکدوشی کے بعد ایس آئی بارڈر پولیس کے طور پر بھی کام کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ثناءاللہ نے بتیس سال تک فوج میں ملازمت کی لیکن اب انہیں، ان کی اہلیہ اور تین بچوں کو گرفتار کر کے حراستی مرکز بھیج دیا گیا ہے۔ یا د رہے کہ ثناءاللہ اور ان کے خاندان سے متعلق کہا گیا ہے کہ ان کا نام این آئی آر سی میں موجود نہیں تھا۔ بھارت میں آسام واحد ریاست ہے جہاں سٹیزن شپ رجسٹر کا انتظام ہے جس کا نام اس میں نہیں ہوتا اسے بھارتی شہری تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ قانون بھارت میں نافذ شہریت قانون سے الگ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.