بھارت پرانی تنخواہ پر کام کرنے کیلئے تیار، ٹیکس چھوٹ ختم ہونے پر بھی امریکہ کے ساتھ ملکر کام کرنے کا عزم

امریکہ کی ترقی پذیر ممالک کے لئے عمومی ترجیح نظام (جی ایس پی) سے بھارتی پیداوار کو ہٹانے سے متعلق تنازعہ کا کوئی حل نہ نکلنا بدقسمتی ہے. بھارت اور امریکہ دوطرفہ تجارت اور معاشی تعلقات کو مستحکم کرنے کی سمت میں کام کرتے رہیں گے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جی ایس پی کے تحت انڈیا کو ہر سال ٹیکس میں 19 کروڑ ڈالر کی چھوٹ ملتی تھی تاہم امریکہ کی جانب سے مارچ کے پہلے ہفتہ میں جی ایس پی سے ہندوستانی پیداوار کو ہٹانے کے لئے 60 دنوں کا نوٹس دیا گیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ تجارتی عمل پر اعتراض کیا گیا تھا۔ جی ایس پی کی یہ مدت 5 جون کو ختم ہورہی ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی عمل سے متعلق مسائل حل نہیں کئے جا سکے ہیں جس کے سبب بھارتی پیداوار کو امریکہ میں درآمد ڈیوٹی پر ملنے والی چھوٹ 5 جون کو ختم ہوجائے گی۔

انڈیا کو ٹیکس کی مد میں‌ 19 کروڑ ڈالر کی چھوٹ ختم کئے جانے پر بھارت کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرح بھارت اور دیگر ممالک ایسے معاملات میں اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے ساتھ خصوصی معاشی تعلقات کے شعبہ میں مسائل کا حل تلاش کرنا ایک مسلسل عمل ہے۔ بھارت اس معاملہ کو باقاعدگی کے عمل کے طور پر دیکھتا ہے اور امریکہ کے ساتھ مستحکم تعلقات پر یقین رکھتا ہے۔ بھارت کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک باہمی مفادات کو دیکھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے کام کرتے رہیں گے۔

بھارت کے مرکزی وزیر تجارت و صنعت نے کہا ہے کہ جی ایس پی سے ہندوستانی پیداوار کو ہٹانے سے متعلق مسئلہ کے حل کی تجویز امریکہ نے قبول نہیں کی جسے بدقسمتی ہی قراردیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ جی ایس پی ایک تجارتی نظام ہے جس کے تحت ترقی یافتہ ملک اپنے علاقے میں ترقی پذیر ممالک کے پیداوار کو درآمد ڈیوٹی میں چھوٹ دیتے ہیں البتہ اب یہ چھوٹ انڈیا کیلئے ختم کر دی گئی ہے جس پر بھارتی حکام میں‌ پریشانی اور بے چینی پائی جارہی ہے. ھ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.