fbpx

بھارت سے تجارتی تعلقات کسی صورت قبول نہیں،سراج الحق

لاپور:امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ بھارت سے تجارتی تعلقات کا قیام قوم کو کسی صورت قبول نہیں۔ کشمیریوں کے خون اور کروڑوں پاکستانی کسانوں کی معیشت کو داؤ پر لگا کر نئی دلی سے محبت کی پینگیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ملک کا کسان پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے۔ بجا کہ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مگر ڈیموں کی تعمیر میں تعطل،حکومتی بدانتظامی، جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں کی طرف سے پانی چوری کا مسئلہ اور بھارت کی پاکستانی دریاؤں پر دراندازی کے عوامل بھی بحران میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔

موجودہ پارٹیاں پہلے بھی برسراقتدار رہیں، پانی کے مسئلے کے حل اور زراعت کی بحالی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے بھی ساڑھے تین برس ضائع کیے۔ حکومت کسانوں کے مطالبات تسلیم کرے۔ کاشتکاروں کی نہ سنی گئی، تو جماعت اسلامی بھرپور احتجاج کا آغاز کرے گی۔ عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اقتدار میں آئے تو دیہی علاقوں کی ترقی پر خصوصی طور پر فوکس کیاجائے گا۔ ”دیہات خوشحال، ملک خوشحال“ پروگرام شروع کریں گے۔

سراج الحق سے منصورہ میں صدر شوکت علی چدھڑ کی سربراہی میں کسان وفد نے ملاقات کی. سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف اور جے آئی کسان کے سیکرٹری جنرل سید وقار حسین رضوی سمیت دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد نے امیر جماعت کو بھارت سے تجارت کھولنے سے کسانوں کو متوقع نقصانات، پانی کی قلت، لوڈشیڈنگ، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، زرعی مداخل پر جی ایس ٹی کے نفاذ، شوگر ملز مالکان کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر اور ملکی زراعت سے متعلق دیگر امور پر بریف کیا۔

امیر جماعت نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کو بجلی طے شدہ ریٹ 5روپے 85پیسے فی یونٹ کے حساب سے مہیا کرے۔ پی ٹی آئی دور میں زرعی مداخل پر لگائے گئے جی ایس ٹی کو ختم کیا جائے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی کی قیمتیں بڑھائیں، تو شدید احتجاج کیا جائے گا۔ حکومت زرعی فیڈرز پر بلاتعطل بجلی کی فراہمی ممکن بنائے۔ یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی مداخل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، ناقص بیج، پانی کی کمی اور دیگر مسائل کے ہوتے ہوئے پاکستانی کسان بھارت کے کسان کا مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے۔ سبزیوں اور دیگر زرعی اجناس کی بھارت سے سستے داموں درآمد سے پاکستانی کاشتکار تباہ ہو جائے گا۔