بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

0
88

بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی گئی منظوری

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار نے پاکستان کا پانی روکنے کا ایک بار پھر اعلان کر دیا، مودی سرکار کے وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب جانے والے پانی کو روکیں‌ گے

بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کا ایک اور منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت بھارت دریائے راوی اور اجھ دریا کا پانی پاکستان آنے سے روکنے کے لئے دریاﺅں کا رخ تبدیل کررہا ہے،دریائے راوی کی ایک شاخ مقبوضہ کشمیر سے ہوتی ہوئی پاکستان میں آتی ہے،اس ضمن میں ایک ٹیکنکل رپورٹ تیار کی گئی ہے جو کہ سرکاری سطح پر منظورکر لی گئی ہے

اجھ کثیر المقاصد پروجیکٹ کی ترمیم شدہ تفصیلی رپورٹ کی منظوری پر بھارتی وزیر اعظم مودی کے دفتر میں بھارت کے وزیر مملکت ڈاکٹر جیتندر سنگھ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے اب پاکستان سے زیادہ جموں کشمیر بالخصوص کٹھوعہ کے لوگ مستفید ہوں گے۔ اور ہم پاکستان کی جانب جانے والے پانی کو روکیں گے

وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ جو ادھم پور پارلیمانی حلقے سے بی جے پی کے رکن پارلیمان بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ کٹھوعہ کے تین دہائی پرانے اجھ دریا کثیر المقاصد پروجیکٹ کو مرکزی وزارت کی طرف سے منظوری مل گئی ہے۔ مذکورہ پروجیکٹ کو سال 2008 میں قومی پروجیکٹ قرار دیا گیا تھا یعنی اس منصوبے پر خرچ ہونے والا تخمینہ 9 ہزار 1 سو 67 کروڑ روپے مرکزی حکومت برداشت کرے گی۔

بھارتی وزیر کا کہنا تھا کہ جب سابقہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈی پی آرس) جمع کیے گئے تو ہم نے محسوس کیا کہ ہم صرف 35 سے40 فیصد پانی استعمال میں لاتے ہیں جبکہ باقی پانی پاکستان کی طرف بہہ رہا ہے جوسندھ طاس آبی معاہدہ کی خلاف ورزی ہے کہ ہم اپنا پانی پاکستان کے ساتھ بانٹ رہے ہیں’۔

وزیر کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر کی سابقہ حکومتیں اور مرکزی حکومت میں موجود ذمہ دار اس پروجیکٹ کو التوا میں رکھنے کے لئے ایک دوسرے کو ہی مورد الزام ٹھہراتے رہے تاہم سال 2014 میں نتن گڈکری نے مرکزی وزیر برائے آبی وسائل کا عہدہ سنبھالا تو ہم نے فوری طور پر ان کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا

ڈاکٹر جتیندر کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں ایک ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئیں اور نیا ڈی پی آر تیار کیا گیا۔ اب یہ منصوبہ تبدیل ہوگا کیونکہ 60 سے 70 فیصد پانی ضائع ہوکر پاکستان کی طرف بہہ رہا تھا۔ کافی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا کہ اس پروجیکٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں سیاسی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔ اس کے بعد ہی نئے ڈی پی آر تیار کیے گئے۔ اس تمام عمل میں پی ایچ ای کے کمشنر سکریٹری اجیت ساہو بھی شامل رہے۔ 14 مئی کو اس کے ترمیم شدہ ڈی پی آر کو منظوری دی گئی۔ جس کے بعد اب اس ڈیم کا فاضل پانی پاکستان میں بہنے کے بجائے ہمسایہ ریاستوں پنجاب، ہریانہ اور راجستھان میں ایک نہر کے ذریعے بہہ جائے گا

اجھ کثیر المقاصد پروجیکٹ کے ڈی پی آر کو ابتدائی طور پر مرکزی آبی کمیشن کے انڈس بیسن آرگنائزیشن نے سال 2013 میں تیار کیا تھا۔ دریائے اجھ دریائے راوی کی ایک شاخ ہے جس کا پانی ضلع کٹھوعہ سے ہوتے ہوئے پاکستان کی طرف آتا ہے

بھارتی آبی جارحیت، فیصل واوڈا میدان میں آ گئے

Leave a reply