بھارتی چینلز و اینکرز کو بالی وڈ سے متعلق سوشل پلیٹ فارمز اور چینلز پر کوئی توہین آمیز مواد اپلوڈ یا نشرنہ کرنے کی ہدایت

دہلی ہائی کورٹ نے بھارتی نجی ٹی وی چینلز ری پبلک ٹی وی، اس کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی، ٹائمز ناؤ اور اس کی گروپ ایڈیٹر ناویکا کمار اور دیگر سے سوشانت سنگھ راجپوت کیس میں ایجنسیوں کی تحقیقات سے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیانات پر جواب طلب کرلیا۔

باغی ٹی وی : ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے آج یعنی پیر کو ریپبلک ٹی وی ،کے چیف ایڈیٹر ان چیف (ای سی سی) ارنب گوسوامی سے جواب طلب کیا ہے۔ ٹائمز ناؤ ، اس کے گروپ ایڈیٹر نویکا کمار اور دیگر نے بالی ووڈ کے 34 معروف پروڈیوسروں اور چار انڈسٹری ایسوسی ایشنوں کی طرف سے دائر درخواست پر جو دو ٹی وی نیوز چینلز کے ذریعہ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کیس میں نشریاتی مواد پرایجنسیوں کی تحقیقات سے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیانات پر جواب طلب کرلیا۔

جسٹس راجیو شکدر نے چینلز اور ان کے اینکرز کو یہ ہدایت بھی کی کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر درخواست گزاروں بشمول اداکار شاہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان، اکشے کمار، اجے دیوگن، انیل کپور اور ہدایت کار فرحان اختر، روہت شیٹھی، ونود چوپڑا اور آشوتوش گواریکر کے پروڈکشن ہاؤسز کے خلاف کوئی توہین آمیز مواد نہ دکھانے اور اپلوڈ نہ کرنے کو یقینی بنایا جائے۔

جسٹس راجیو شکدر نے کہا کہ چینلز اور اینکرز یقینی بنائیں کہ ان کے سوشل پلیٹ فارمز اور چینلز پر کوئی توہین آمیز مواد اپلوڈ یا نشر نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں چینلز کے وکیل نے مجھے یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ وہ کیبل ٹیلیویژن نیٹ ورک (ریگولیشن) ایکٹ، 1995 کے تحت تشکیل کردہ پروگرام کے قواعد و ضبط پر عمل کریں گے۔

عدالت نے کہا کہ غیرجانبداری کے ساتھ آزاد اور منصفانہ رپورٹنگ ہونی چاہیے۔

جسٹس راجیو شکدر نے کہا کہ کیبل سے قبل سرکاری نشریاتی چینل دور درشن (ڈی ڈی ) سے نشر ہونے والا مواد قدرے بہتر تھا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نیوز چینلز پروگرام کے قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کررہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ پہلے سے ہی مسائل پر فیصلے سنارہے ہیں اور اس پر کچھ کرنا چاہیے، یہ ہر ایک کے لیے مایوس کن ہے، عام طریقہ یہ ہے کہ چارج شیٹ دائر ہونے تک ہم ملزم کا نام تک نہیں لیتے لیکن اب تو شخص کا نام اور ہر تفصیل چارج شیٹ سے قبل ہی جاری کردی جاتی ہے۔

انہوں نے 15 سال قبل پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک نیوز چینل نے اپنے اساتذہ کے بارے میں ایک رپورٹ نشر کی تھی جس میں اس کی کلاس کو کوئی فحش مواد دکھایا گیا تھا اور اس کی وجہ سے وہ تقریبا لنچ ہو گیا تھا۔

ہائی کورٹ کے جج جنہوں نے کیس کی سماعت کی ، اور چونکہ ریٹائرڈ ہیں ، واقعات کے موڑ سے پریشان ہوگئے۔

جج نے کہا ، "تربیت یافتہ ذہن جو مستقل بنیادوں پر ان مسائل سے نمٹتے ہیں وہ متاثر ہوجاتے ہیں-

جج نے سوال کیا کہ آپ کو مجھے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہم اس سے کیسے نمٹیں؟ ہم ان مسائل کو کیسے حل کرسکتے ہیں؟

انہوں نے یہ ریمارکس دیے کہ وہ نشریاتی اداروں کے بیک گراؤنڈز اور ان کے اشتعال انگیز مواد سے حیران ہیں۔

جج راجیو شکدر نے بھارتی چینلز سے کہا کہ آپ معاشرے کے چوتھے جزو کی نمائندگی کرتے ہیں، لوگ آپ سے خوفزدہ ہیں، کوئی بھی اپنی نجی زندگی کو عوامی سطح میں لانا نہیں چاہتا، اس سے پرائیویسی کم ہوجاتی ہے۔

انہوں نے مذکورہ بات شہزادی ڈیانا کا حوالے دیتے ہوئے کی جو 1997 میں پاپارازی سے بچ کر نکلنے کی کوشش میں کار حادثے میں ہلاک ہوگئی تھیں۔

جج راجیو شکدر نے ٹی وی چینلز پر استعمال ہونے والی زبان پر بھی تشویش کا اظہار کیا کیونکہ مباحثوں میں شریک افراد کو مذموم الفاظ استعمال کرتے پایا گیا تھا۔

بالی وڈ فلم سازوں کی درخواست پر اگلی سماعت 14 دسمبر کو ہوگی جس میں عدالت نے دونوں نشریاتی اداروں سے جواب بھی طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں بالی وڈ فلم سازوں نے سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تحقیقات سے متعلق کیس میں ’بالی وڈ شخصیات کے میڈیا ٹرائلز’، ان کے نام لینے اور پورے ’بالی وڈ کو مجرم قرار دینے’ پر دہلی ہائی کورٹ میں 2 بھارتی نجی ٹی وی چینلز کے خلاف مقدمہ کیا تھا۔

بالی وڈ انڈسٹری کی 4 ایسوسی ایشنز اور 34 نامور بالی وڈ پروڈیوسرز نے 2 ٹی وی چینلز، ری پبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کے خلاف ہدایات دینے کی درخواست کی تھی۔

اس کے ساتھ ہی ان چینلز کے ایگزیکٹو ایڈیٹرز اور دیگر صحافیوں کو بالی وڈ اور انڈسٹری سے وابستہ افراد کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے یا شائع کرنے سے روکنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی تھی۔

خیال رہے کہ رواں برس جون میں خودکشی کرنے والے سوشانت سنگھ راجپوت کے لیے منشیات کا بندوبست کرنے کے الزام میں ان کی سابق گرل فرینڈ اور اداکارہ ریا چکر بورتی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ریا چکربورتی کی گرفتاری کے بعد خبریں سامنے آئی تھیں کہ اداکارہ نے نارکوٹکس بیورو کے سامنے کم از کم 28 بالی وڈ شخصیات کے منشیات استعمال کرنے کے حوالے سے بتایا تھا۔

ریا چکربورتی نے جن 28 شخصیات کے حوالے سے نارکوٹکس بیورو کو بتایا تھا ان میں سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان، اداکارہ راکول پریت سنگھ اور ڈیزائنر سیمون کھمباٹا کے نام بھی شامل تھے۔

بعدازاں این سی بی نے منشیات سے متعلق کیس میں دپیکا پڈوکون اور ان کی مینجر کرشمہ پرکاش، شردھا کپور، سارہ علی خان اور راکول پریت سنگھ کو طلب کیا تھا ۔

بالی وڈ کو نشہ آور اور گندگی قرار دینے پر 2 بھارتی نیوز چینلز کے خلاف مقدمہ درج

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.