fbpx

بھارتی حکومت فلمسازوں سے پروپیگنڈا فلمیں بنواتی ہے نصیرالدین شاہ

ممبئی: بالی وڈ کے لیجنڈری اور سینئیر اداکار نصیر الدین شاہ پروپیگنڈا فلمیں بنوانے پر بھارتی حکومت پر برس پڑے-

باغی ٹی وی : بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں اداکار نصیر الدین شاہ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت بالی وڈ کے بڑے فلم سازوں اور ہدایت کاروں کو اپنے حق میں فلمیں بنانے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، فلم سازوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ حکومت کی کاوشوں کو فلموں کے ذریعے اجاگر کریں۔

فلم کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان کے ڈانس کی ویڈیو سوشل میڈٰیا پر وائرل

71 سالہ نصیر الدین شاہ نے کہا کہ حکومت پروپیگنڈا فلمیں بنانے کے لیے مالی معاونت بھی کرتی ہے ایسا نازیوں کے دور میں کیا جاتا تھا، نازی فلسفے کی تشہیر کے لیے فلمیں بنوائی جاتی تھیں۔

شاہ رخ خان بھی ویب سیریز میں نظر آئیں گے

نصیرالدین شاہ نے کہا کہ بالی وڈ میں مجھے کبھی امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم بہت سے موقعوں پر مجھے ہراساں ضرور کیا گیا فلمی صنعت میں واضح تعصب تو نہیں لیکن اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ہراساں کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ انڈسٹری کے تین بڑے ’خان‘ آج تک خاموش ہیں۔

بالی وڈ کے تینوں ’خان‘ سلمان خان، شاہ رخ خان اور عامر خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نصیر الدین شاہ نے کہا کہ وہ ہراساں نہ ہوں اس لیے فکر مند ہیں کیونکہ ان کے پاس گنوا دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔

بھارتی اداکارہ کروڑوں روپے کے بھتے اور فراڈ کے مقدمے میں گرفتار

اداکار نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ اس وقت بالی وڈ میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ انڈسٹری میں ہماری شراکت داری ایک اہم چیز ہے انڈسٹری میں آپ جتنی دولت حاصل کرسکتے ہیں اتنی عزت بھی کما سکتے ہیں۔

نصیرالدین نے کہا کہ بالی وڈ کے تینوں ’خان‘ آج بہت اوپر پہنچ گئے ہیں، میں نے کبھی امتیازی سلوک محسوس نہیں کیا، فلمی کیریئر شروع کرتے ہوئے مجھے اپنا نام تبدیل کرنے کے لیے مشورے ملتے رہے لیکن میں نے نہیں کیا، مجھے نہیں لگتا کہ میرے نام سے میرے کیریئر پر کوئی فرق پڑا ہو-

سائرہ بانو کی طبیعت خطرے سے باہر