ورلڈ ہیڈر ایڈ

بھارتی ریاست گجرات سے کشمیریوں کے حق میں بڑی خبر آ گئی

بھارتی ریاست گجرات کے مختلف مقامات پر ہزاروں لوگوں نے مظلوم کشمیریوں کے حق میں دھرنا دیا اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مجسمے کو نذر آتش دیا۔ احتجاج کے بعد پولیس نے محصور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ان کو چنڈی گڑھ جانے سے روک دیا۔
بھارت کشمیر میں مواصلاتی نظام بحال کرے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مطالبہ

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے احتجاجی مارچ کو روکنے کے لئے موہالی میں مختلف کسانوں اور طلباءکی یونینوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سمیت درجنوں کارکنوں کو بھی حراست میں لیا۔ ان بائیں بازو کے گروپوں نے پنجاب کے گورنر وی پی سنگھ بدنورکے لئے ایک میمورنڈم تیار کیا جس میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی ، کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور مسلح افواج کے خصوصی اختیارات ایکٹ کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

بھارتی حکومت کی جانب سے مظاہرین کو موہالی پہنچنے سے روکا گیا تاہم ، جہاں بھی انہیں روکا گیا وہاں ہزاروں افراد نے دھرنا دیا۔ یہ دھرنے بنیادی طور پر پنجاب کے جنوب میں بٹھنڈا ، مانسہ ، فریدکوٹ ، مکتسار ، سنگرور ، فیروز پور اور برنالہ اضلاع کے علاوہ موہالی اور ترن ترن کے اضلاع میں دیے گئے جہاں مظاہرین نے وزیر اعظم کے مجسمے کو نذر آتش کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.