fbpx

بہنیں منحوس نہیں ہوتیں   تحریر ممتازعباس شگری

 بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عیدکی شب ابو یا امی جاتے ہیں میری بیوی ایک دن مجھ سے کہنے لگی آپ کی بہن جب بھی آتی ہے اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں خرچ ڈبل ہو جاتا ہے اور تمہاری ماں ہم سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے،کبھی صرف کے ڈبے اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا میں ماں سے غصے میں کہہ دیاماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کردیں۔ماں چپ رہی لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری بہن کچھ نہ بولی 

4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ آو میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن لیکن وہ مسکراکربولی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں۔وقت گزرتاگیاجب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا  ہو رہا تھا تو میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمین سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا بہن سامنے بیٹھی تھی وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی وہ بیچاری خاموش تھی۔بڑابھائی علحیدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھابہت پریشان تھا میں نے لاکھ روپیہ قرض بھی لے لیا تھا بھوک سر پہ تھی میں حالات سے بہت پریشان کمرے میں اکیلا بیٹھا شاید رو رہا تھا،اس وقت وہی بہن گھر آگئی میں نے غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحو س میں نے بیوی کو کہا کچھ بہن کے لئے کچھ تیارکرو،بیوی میرے پاس آکربولی اس کیلئے گوشت یابریانی پکانے کی کوئی ضرورت نہیں،پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی بھائی پریشان ہو بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری گود میں کھیلتے رہے ہو اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو پھر میرے قریب ہوئی اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے آہستہ سے بولی پاگل تواویں پریشان ہوتا ہے بچے اسکول میں تھے سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔ یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر بیٹے کا علاج کروا۔شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم نے۔میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم کو میری قسم ہے میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے شاید اس کی جمع پونجی تھی میری جیب میں ڈال کر بولی بچوں کو گوشت لا دیناپریشان نہ ہوا کر، جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا کربولی دیکھو اتنے بال سفید ہو گئے وہ جلدی سے جانے لگی میری نظراس کے پیروں کی طرف  پڑی ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی تھی،میں بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھااس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیے سکون آ جائے۔بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں یہ کہتے ہوئے اس نے جیب سے رومال نکال کرآنسوصاف کیا۔یہ کہانی ہمارے موجودہ معاشرے کی عکاسی ہے۔آپ آگے بڑھنے سے پہلے ایک اورکہانی بھی پڑھ لیں۔

 اختری بیگم کاتعلق خانیوال کے گاوں مخدوم پورسے ہے،یہ سات اپریل کی صبح اپنے ولدین کی زمین پرقبضہ لینے پہنچیں جوعدالتی حکم کیمطابق ان کے حصے میں آیاتھا،لیکن وہ وہاں سے اپنے پاؤں پرچل کرواپس نہ جاسکی،کیوں نہ جاسکی یہ کہانی بھیانک ہے،ان کے بھائیوں نے مل کران پرحملہ کیااوران کی ٹانگیں توڑدی، یوں وہ چلنے سے بھی قاصرہوکررہ گئیں،انکے بھائیوں نے جرم تسلیم کرلی،جیل کی ہواکھائی اورکچھ عرصہ بعدضمانت پرباہربھی آگئے۔یہ ہماراسسٹم ہے،اورہمارے ہاں ریاست مدینہ میں یہ قانون بھی ہے اورجائزبھی۔

 آپ ایک دن تاریخ کامطالعہ کرکے دیکھ لیں پاکستان کاشماران ممالک میں ہوتاہے جہاں عورت کو وراثتی حقوق یاجائیدادکی ملکیت دینے کی شرخ سب سے کم ہے،جائیدادبہنوں کوحصہ دینے والے ملکوں میں پاکستان کاشمار127میں سے 121ویں نمبرپرہے،بلوچستان پاکستان کاوہ صوبہ ہے جہاں خواتین کووراثت دینے کی شرخ صفرہے،یوں آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہم ریاست مدینہ میں سرکارمدینہ کی دین پرکس حدتک عمل پیراہے،اسلام کے مطابق وراثت میں بہنوں کاباقاعدہ حق مقررہے لیکن ہم اسلام کالبادہ اُڑھ کرجہیزکے نام پراسلام کامذاق اُڑانے کے علاوہ کرکیارہے ہیں،کیایہی اسلام ہے،آپ ایک بارریاست پاکستان کے اس ایکٹ پرہی نظرگھمانے کی سعی کریں جس کے مطابق خاتون کوحق وراثت سے محروم کیے جانے پردس سال قیداوردس لاکھ جرمانے کی سزامقررکی گئی ہے یہ ایکٹ پریونشین اورانٹی ویمن کے نام سے 2011میں منظورہوئی،لیکن ہمارے یہاں ایسے کتنے ایکٹ ہوں گے جومنظورتوہوئی ہے لیکن اس پرکوئی بھی شہری عمل کرنے کوتیارہی نہیں، کیایہی ہمارااسلام ہے کیایہی ہماراقانون ہے،ہمیں اسلام کے نام پراسلام کواستعمال کرنے کی بجائے اسلام کے اصولوں پرعمل پیراہوناہوگا،ہمیں اپنے معاشرے میں عورت کامقام جانناہوگا،جس ہستی کے پاوں تلے جنت ہوتی ہے،ہم انہیں ان کی جائزحقوق سے بھی کیسے محروم کررہے ہیں،آپ ایک دن اپنے دل پرہاتھ رکھ کرسوچیں کیاآپ اسلام کے اصولوں پرعمل پیراہے،کیاآپ اپنے محرم خواتین کے،آپ اپنے بہنوں کے حقوق اداکررہے ہیں؟جس دن آپ اورمیں اپنے دل پرہاتھ رکھ کرسوچناشروع کرتے ہوئے عمل کریں گے یقین کرلیں،اس دن آپ کوسمجھ آجائیں گے بہنیں منحوس نہیں ہوتیں، اس دن سے معاشرے میں تبدیلی آئے گی،تبدیلی کسی دوسرے کو نہیں اپنے آپ کوبدلنے کانام ہے توبس آج سے اپنے آپ کوبدلنے کاآغازکرلیں۔

Twitter ID:    @mumtazshigri12

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!