fbpx

بہترین تحفہ تحریر: مجاہد حسین

تحفہ ہمیشہ سے ہی لوگوں کے درمیان الفت و محبت پیدا کرنے کا ذریعہ رہا ہے۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا کہ آپس میں تحفے دیا کرو کہ یہ دِلوں میں محبت پیدا کرتے ہیں اور آپس کی کدورتیں ختم کرتے ہیں۔
آج کے جدید دور میں جب تحفے کا ذکر آتا ہے تو ہمارے ذہین میں، موبائل، گھڑی، کمپیوٹر، مہنگے برانڈ کے کپڑے، خوشبوئیں وغیرہ آتی ہیں کہ دنیا میں یہی مادی چیزیں ہی محبت کا معیار مانا جانے لگا ہے۔
آج میں آپ کو ایک معروف عالم دین مفتی مینک کا ایک واقعہ سناتا ہوں جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں سب سے بہترین تحفہ کون سا دیا گیا۔
وہ بیان کرتے ہیں کہ ویسے تو قرآن پاک کی ساری سورتیں بہت شان والی ہیں لیکن جو سب سے زیادہ میرے دل کو اپنا گرویدہ بناتی ہیں وہ سورة الضحى کی تیسری اور پانچویں آیات ہیں۔ ان کی شان نزول یہ ہے کہ جب نبی ﷺ پر کچھ عرصے کے لئے وحی موقوف ہو گئی تھی تو کفار کہنے لگے کہ اللہ نے محمد ﷺ کو چھوڑ دیا ہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اللہ نے یہ آیات نازل کیں۔
"مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ” اور "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ”
جن کا ترجمہ ہے کہ
"اے محمد ﷺ! تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا ہے نا تم سے ناراض ہوا ہے”
اور "اور تمہارا رب عنقریب تمہیں اتنا عطا کرے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے”
ان آیات کا حوالہ دے کہ مفتی مینک کہتے ہیں کہ میں کئی سال پہلے تنزانیہ میں زینزیبار یونیورسٹی میں گیا۔ میں نے وہاں کے نوجوانوں کے ساتھ باتیں کیں اور دو تین دن بعد وہ شکریہ کے پیغامات لے کے میرے پاس آئے اور ان میں سے ایک شخص (جو اب میرا بہت اچھا دوست ہے) نے کہا کہ ہم آپ کو ایک تحفہ دینا چاہتے ہیں جو کہ قرآن پاک کی ایک آیت ہے اور کہنا لگا کہ "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ” عنقریب اللہ آپ کو اتنا دے گا آپ خوش (راضی) ہو جائیں گے۔
مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ میری زندگی میں پہلی مرتبہ تھا کہ اس آیت کا ایک مختلف مفہوم میرے سامنے آیا۔ اور تب سے یہ آیت میرے دل کے بہت قریب ہے۔
اس بات سے سمجھ آئی کہ دنیا کا بہترین تحفہ کسی کو دعا دینا ہے جس سے اللہ بھی آپ سے راضی ہو جائے گا اور آپ کو دعا کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور آپس میں محبت اور تعلقات بھی بہت بہتر ہو جائیں گے۔
اللہ عمل کرنے کی توفیق دے۔

@Being_Faani