بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

0
134
khalid sharif

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالد شریف

ممتاز شاعر،ادیب ،ایڈیٹر ، پبلشر، ماورا پریس کلب اور ماورا بک ڈپو کے مالک

18 جون 1947: یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو کے ممتاز پاکستانی شاعر خالد شریف 18 جون 1947ء میں انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ بعدازاں خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں آگئے۔ اسی شہر سے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد انہوں نے انکم ٹیکس کا محکمہ جوائن کر لیا اور مختلف شہروں میں خدمات سر انجام دیں لیکن کتاب سے رغبت نے ان کو پبلشنگ کی طرف مائل کیا اور 1970ء میں انہوں نے اشاعتی کاروبار کا آغاز کیا۔ خالد شریف نے 1964ء میں شعر کہنا شروع کئے۔اس وقت یہ کالج کے طالب علم تھے اور کالجوں کے بین الکلیاتی مشاعروں میں حصہ لیتے تھے۔
خالد شریف کی پہلی کتاب 1990ء میں ’’نارسائی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس کے درجن سے زائد ایڈیشن آچکے ہیں۔ اس کے بعد ’’بچھڑنے سے ذرا پہلے‘‘ شائع ہوئی اور پھر’’وفاکیا ہے‘‘ اور ’’گزشتہ‘‘ شائع ہوئیں۔ ’’رت ہی بدل گئی‘‘ 2003ء میں مارکیٹ میں آئی۔ دیگر کئی کتابیں زیر طبع ہیں۔

چند منتخب اشعار

کاش ایسا ہو کہ اب کے بےوفائی میں کروں
تو پھرے قریہ بہ قریہ کو بہ کو میرے لئے
میں تو لامحدود ہوجاؤں سمندر کی طرح
تو بہے دریا بہ دریا جو بہ جو میرے لئے

آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہے
کون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے

آج کچھ رنگ دگر ہے مرے گھر کا خالدؔ
سوچتا ہوں یہ تری یاد ہے یا خود تو ہے

آج سے اک دوسرے کو قتل کرنا ہے ہمیں
تو مرا پیکر نہیں ہے میں ترا سایہ نہیں

آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ
چاند کمرے میں مرے اترا ہے

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا
ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا
دنیا میں اب دکھوں کے سوا کچھ نہیں رہا

وہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لے
اے غم گسار دست دعا کو سمیٹ لے

زخم رسنے لگا ہے پھر شاید
یاد اس نے کیا ہے پھر شاید

اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا
ایک کرسی ہے جو دالان میں رکھی ہوئی ہے

Leave a reply