fbpx

امریکہ نےچین کےخلاف اپنےاتحادیوں کو9 ٹریلین ڈالرز کےجدیداوربھاری اسلحہ کی بڑے پیمانےپرمنظوری دےدی

واشنگٹن :امریکہ نے چین کےخلاف اپنے اتحادیوں کوجدید اوربھاری اسلحے کی بڑے پیمانے پرمنظوری دے دی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے چین کے خلاف اپنے اتحادیوں‌ کو اسلحہ کی بڑے پیمانے پر فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

پنٹاگون ذرائع کے مطابق بوئنگ پی 81 جدید طیارے جودشمن کی سرحدوں کے بہت اندرتک مانیٹرنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‌ وہ بھارت کو دینے کا فیصلہ کیاہے

اس کے ساتھ ساتھ اس سے متعلق سازو سامان بشمول ریڈیو سسٹم ، انجن ، نیوی گیشنل سسٹم اورجدید دیگرضروری اسلحہ بھارت کو 2.42 ارب ڈالرزکے بدلے میں دینے کا اعلان بھی شامل ہے

پینٹا گان ذرائع کے مطابق ایسے ہی آسٹریلیا کو بھاری کمبیٹ سسٹم کا ایک پیکیج خریدنے کے لئے پیغام دے دیا ،جس کی قیمت پونے دوارب ڈالرز بنتی ہے ، ایسے ہی چار سی ایچ 47 ایف چینکو کارگو ہیلی کاپٹر جن کی قیمت کا تخمینہ 259 ملین ہے۔وہ بھی آسٹریلیا کودینے کا اعلان کیا ہے

گذشتہ ہفتے 4.36 بلین ڈالر کی مالیت کے ہندوستان اور آسٹریلیا اس کے علاوہ پہلے ہی معاہدے ہوچکے تھے ،

امریکی دفاعی سلامتی تعاون ایجنسی نے امریکی فوجی اتحادیوں کو اسلحہ کی فروخت ، تربیت اور خدمات کے ذمہ دار ، نے انتظامیہ کی جانب سے تین آر کیو- کی ممکنہ فروخت کی منظوری کا اعلان کیا۔ 4 بلاک 30 (I) گلوبل ہاک بغیرپائلٹ کے چلنے والے جنگی طیارے جاپان کودیئے گئے تھے جن کی مالیت 1.2 بلین ڈالربنتی ہے

تینوں ممالک کو اسلحہ کی ممکنہ فروخت چین اور بحر الکاہل پر واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی توجہ کا اشارہ دیتی ہے۔

ہندوستان ، جاپان اور آسٹریا "کواڈ” کا ایک حصہ ہیں ، اتحادی ممالک کے ایک گروپ کا مقصد چین کے بڑھتے ہوئے مقابلہ کا مقابلہ کرنا ہے۔

بھارت کوفروخت ہونے والے جدید اسلحے سے خطے میں ایک نئی دوڑ شروع ہوجائے گی اورتوازن بگڑجائے گا دوسری طرف چین اورپاکستان بھی ان معاہدوں‌ پرنظررکھے ہوئے اوراپنی حکمت عملی طئے کررہے ہیں

بائیڈن انتظامیہ نے اسلحہ کی 15 ممکنہ فروخت کی منظوری دی ہے ، جس کی اجتماعی قیمت تقریبا 9 ٹریلین ڈالرزبنتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.