fbpx

بائی پولر کی شناخت کرنا اب مشکل نہیں ۔

بائی پولر کی شناخت کرنا اب مشکل نہیں ۔

باغی ٹی وی :پیرس میں سائنس دانوں نے انسانی لہو میں 6 ایسے بایومارکر دریافت کر لیے ہیں۔ جو بائی پولر جیسے مریض کی شناخت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں ۔
مزید تفصیلات کے مطابق مونٹ پولیئر یونیورسٹی ہسپتال، سوئزرلینڈ کے نفسیاتی ہسپتال لیس ٹوئسس ،فرانس ،اور جامعہ پٹس برگ میں موجود سائنس دانوں نے ایک کمپنی ایلسی ڈیاگ کے تعاون سے معلوم کیا جا چکا ہے کہ باقی ٹیسٹوں جس طرح مرض کی شناخت کر سکتے ہیں وہاں خون کا خون کا ٹیسٹ کرانے سے بائی پولر مرض کی شناخت ہو سکتی ہے ۔
مزید یہ کہ ڈپریشن کا مرض بہت عام ہے بہت سے لوگ ڈپریشن کے اس مرض میں مبتلا ہیں ۔ڈپریشن میں مبتلا مریضوں کی تعداد تقریباً 30 کروڑ ہے ۔اور یہ کہ ان میں 40 فیصد لوگوں کی تعداد بائی پولر کی شکار بھی ہو سکتی ہے ۔

بائی پولر کی مندرجہ ذیل اقسام ہو سکتی ہیں ۔
انسان بہت زیادہ مایوس ہو جاتا ہے ۔اس کی خوشی اور غمی پہلے کی نسبت مختلف ہو جاتی ہے ۔مریض کا اپنے اوپر سے اعتبار ختم ہو جاتا ہے ۔اور وه کسی بھی طرح کا فیصلہ نہیں کر سکتا ہے ۔ماضی میں اس مرض کے حوالے سے کافی تجربے ہو چکے ہیں۔تاہم اب جا کے اس کی تشخیص کا طریقہ دریافت ہو چکا ہے ۔ اس کی تشخیص ایک بلڈ ٹیسٹ سے ہوتی ہے ۔اس بلڈ ٹیسٹ میں آراین اے اور مصنوعی ذہانت کو استعمال کیا جاتا ہے ۔جس سے اس کی درستگی 80 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہو جاتا ہے ۔ مزید چھ بایومارکر میں سے جتنے زیادہ موجود ہوں بائی پولر کا شبہ یقین میں ڈھلتا جاتا ہے۔ اس پورے منصوبے کو ایڈٹ بی کا نام بھی دیا جا چکا ہے ۔