ورلڈ ہیڈر ایڈ

کرائے کے بجلی گھروں‌ کو 10 سال میں 955 ارب کی اضافی ادائیگیاں‌ کی گئیں، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف

ک سینیٹ کی قائمہ کمیٹی توانائی کی ذیلی کمیٹی نے کنوینرنعمان وزیرنے انکشاف کیا ہے کہ آئی پی پیز کامعاملہ کمیٹی میں اٹھانے پر مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن میں‌ دھمکیوں سے نہیں ڈرتا پاکستان کے لیے یہ کام کروں گا،کمیٹی ارکان نے کہناتھاکہ کرائے کے بجلی گھرجتنا ناجائزمنافع کمارہے ہیں اتنا تو منشیات فروش نہیں کماتے ہیں، 2ہزار ارب اضافی ادائیگیاں ہوئی ہیں ۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نعمان وزیرنے کہا کہ آئی پی پیز والے ملک کولوٹ رہے ہیں،دس سال میں40آئی پی پیز(تھرمل) کو955.7ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں کی گئیں، 31فیصد تک منافع دیاجارہاہے ،کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ آئی پی پیز کو 955.7ارب روپے واپس کرنے ہوں گے اگرکوئی واپس نہیں کرے گااس کونیشنلائز کیاجائے گا۔وزارت توانائی اورنیپراکو17سولات پر مشتمل سوال نامہ دے دیاگیا ہے اور 15جولائی تک جواب دینے کی ہدایت کردی۔کمیٹی نے چیف ایگزیکٹو نشاط چونیا پاور پلانٹ کواگلے اجلاس میں بلانے کافیصلہ کرلیاکہ وہ کمیٹی کوبتائیں کہ 3ارب سے کس طرح انہوں نے 18ارب روپے کمائے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں وزارت توانائی کے سیکرٹریز کی عدم شرکت پر ارکان نے شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے چئیرمین سینیٹ کومعاملے سے آگاہ کرنے کافیصلہ کیاکہ وہ متعلقہ حکام کوخط لکھیں۔

منگل کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی توانائی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر نعمان وزیرکی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا اجلاس میںسینیٹر آغا شاہ زیب درانی اورسینیٹر محمد اکرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت توانائی کے نہ ہی وزیراور نہ ہی کسی سیکرٹری نے شرکت کی ۔ چیرمین نیپرا بہادرشاہ اور نیپرا کے دیگر حکام نے شرکت کی.وزیر اور سیکرٹری کی عدم شرکت پر ارکان نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ملک کوتوانائی کی وجہ سے معاشی بحران کاسامناہے مگر وزارت کے حکام کی سنجیدگی کایہ عالم ہے کہ کوئی ایک بھی موجود نہیں ہے ارکان کی مشاورت کے بعد کنوئینرکمیٹی نعمان وزیرنے حکام کی عدم شرکت پرچیرمین سینیٹ کو اس حوالے سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا. تاکہ وہ متعلقہ حکام کو خط لکھیں۔

کنوئینرنعمان وزیرنے کہاکہ اربوں روپے کا کا گردشی قرض بجلی کی وجہ سے ہے اور یہ مزید بڑے گا. بجلی کے پلانٹ چلے یانہ چلے ان کو پیسے ادا کرنے ہیںگردشی قرض دفاعی بجٹ سے بڑھ گیاہے اور ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ہم ان آئی پی پیز کو ادا کررہے ہیں۔آئی پی پیز کو نیپرا دفاع کررہی ہے اس کی مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے. نیپرا کو صحیح کام کرنا چاہیے انہوں نے سرکاری حکام کوانتباہ کیاکہ اگرکوئی کمیٹی کے سامنے غلط معلومات دے گا اس کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے گاآئی پی پیزوالے پاکستان کی معاشی قتل کررہاہے 25روپے یونٹ میں کارخانہ کیا چیز بنائے گا۔

حکومت نے کرائے کے 40بجلی گھروں کو دس سالوں میں 955ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں کی گئی ہے ۔ نعمان وزیر نے ایس ای سی پی اور نیپرا کے دستاویزات سے ایک بریفنگ بھی دی جس میں انہوں نے 8کرائے کے بجلی گھروں کے معائدوں ان کوہونے والی ادائیگیوں کاتفصیلی چارٹ نیپرا حکام کے سامنے رکھا۔کہ کس طرح آئی پی پیز کواضافی ادائیگیاں کی گئیں ۔تفصیلی بریفنگ دیکھ کر سرکاری حکام کے طوطے اڑگئے ۔دس سال میں آئی پی پیز کو 955ارب اضافی ادائیگی کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں نے 8آئی پی پیز کولیاہے اور ان کوڈیٹا آپ کے سامنے رکھ رہاہوں صرف ان8 آئی پی پیز کو102.7ارب روپے اضافی اداکئے گئے ہیں ۔2013سے 2018 کا ڈیٹے کے مطابق نشات پاورپلانٹ نے 3.5ارب روپے سرمایہ کاری کی 15%کمائے کا معائدہ کیا ان کو 3.717ارب ادا کئے جانے تھے،
محمد اویس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.