بجلی گھروں سمیت 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کا منصوبہ

0
68

وفاقی حکومت نے موجودہ مالی سال میں 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔

رواں مالی سال میں حکومت کا 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کا منصوبہ ہے، اور ان میں آر ایل این جی پر چلنے والے حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹس سرفہرست ہیں۔دستاویزات کے مطابق ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی کی نجکاری مارچ 2023ء تک کی جائے گی،اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری جون 2023ء میں متوقع ہے۔

سماء ٹی وی کے دعوی کے مطابق: دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ شفافیت یقینی بنانے کیلئے بعض اداروں کا خصوصی آڈٹ کیا جائے گا، سوئی سدرن گیس کمپنی،حیسکو اور پیپکو کا بھی خصوصی آڈٹ ہوگا۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اداروں کی کارکردگی میں بہتری کیلئے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا جائے گا، اور یہ یونٹ وزارت خزانہ میں جنوری 2023ء تک فعال ہوگا۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ گورنس، شفافیت اور استعداد کار میں بہتری لائی جائے گی۔

یاد رہے کہ نجکاری کے عمل کی تعریف ماضی بطور وزیر اعظم بھی کرچکے ہیں انہوں نے کہا تھا: وزیراعظم عمران خان نے نجکاری عمل کی جلداز جلد تکمیل سے حکومتی مالی وسائل خصوصاً نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا، قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کے ساتھ ساتھ اداروں کی کارکردگی کو ان کی استعداد کے مطابق چلانا، اداروں سے بہترین نتائج کا حصول اور مجموعی طور معیشت کی بہتری نجکاری عمل کی اصل روح ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماضی میں بطور وزیر اعظم نجکاری عمل میں پیش رفت کا جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا تھا۔ اجلاس میں اس وقت کے وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری، سیکرٹری نجکاری رضوان ملک و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی تھی۔ جبکہ اس وقت کے وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومتی وسائل میں نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

Leave a reply