fbpx

بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے تحریر: ذیشان علی

گردش ایام یا اشاعت اعمال نے آج مسلمانوں کو ایسے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کر دیا ہے کہ وہ کونسی آنکھ ہوگی جو ہمارے زبوں حالی اور ذلت و رسوائی پر آنسو نہ بہاتی ہو،
کبھی وہ دور بھی تھا کہ ایک مسلمان عورت کے سر کے بالوں پر کسی غیر محرم کی نظر بھی نہ پڑھ سکتی تھی،
لیکن آج ان رسم و روایات کو صرف سنا اور سنایا جاتا ہے،
ماڈرنزم اور فیشن کے نام پر خود کو برہنہ کرنے کا جو ٹرینڈ ہمارے ہاں چل پڑا ہے ڈرامہ انڈسٹری بڑی تیزی کے ساتھ اس پر کام کر رہی ہے، اور عین ممکن ہے کہ حالات سب کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں، اور وہ تہذیب و ثقافت ہمارے سامنے ہو جو نا تو قبول کی جا سکے اور نا دیکھی جا سکے،
مگر یہ سب کہنا کہ ایسا ہوگا،!!؟ ایسا تو پہلے سے ہو رہا ہے کوشش کرنی ہے کہ ایسا مزید ہونے سے روکا جائے،
لہذا اپنی روایات کو نظر انداز نہ کریں اس کا ضرور خیال رکھنا ہو گا وہ قومیں جو دوسروں کی اقدار و روایات کو اپناتی ہیں اپنا آپ کھو دیتی ہیں اپنی پہچان اپنی ثقافت نہ رہی تو بھلا وہ قوم کیا کہلائے گی؟
عورت کی زینت اور عزت اس میں ہے کہ وہ چھپا کر رکھی جائے کیا ہم سبھی ایسا سوچتے ہیں؟
ہمیں ایسا سوچنا ہوگا کیونکہ یہ ہماری روایت ہے اور ہماری مذہبی تعلیمات بھں،
جب تک مسلمان اسلامی آداب و اطوار سے سختی کے ساتھ بندھے ہوئے رہتے تھے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل پیرا تھے اسلامی قوانین کے آگے اپنی گردن کو جھکائے ہوئے تھے تو کامیابی اور فتح ان کا مقدر ہوا کرتی تھی اور جب سے مسلمانوں نے اپنے طریقے اسلامی کو ترک کر دیا اپنے پیغمبر علیہ السلام کی ہدایت کو چھوڑ کر یہودونصاریٰ اور دیگر اقوام کی تہذیب کو اپنانا شروع ہو گئے تو دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے، شروعات ہو چکی ہے اور کافی وقت گزر گیا اور بہت کچھ بدل گیا اور بہت کچھ بدلنا والا ہے،
لیکن ہمیں اپنی تہذیب اور ثقافت کو فروغ دینا اور وہ چیزیں وہ فیشن کرنے سے بریز کرنا چاہیے جو ہمارے معاشرے اور جس سے ہماری تہذیب کو نقصان پہنچ رہا ہے،

کیونکہ بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے،

یہ کہنا کہ یہ پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے بالکل غلط ہے ایسی باتیں اس لئے کی جاتی ہیں اور وہ بھی بس یورپ کی تہذیب اور ثقافت اور ان کے رہن سہن سے متاثرہ لوگ ہی کرتے ہیں،
ترقی اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات کو مضبوطی سے پکڑ کر بھی کی جا سکتی ہے
جب مسلمان تمام عالم میں عزت و برتری کے واحد مالک تھے وہ ترقیات کی تمام منازل میں بڑی بڑی قوموں سے آگے تھے تو اس وقت اپنی اسلامی اقدار اور روایات تہذیب کو مضبوطی کے ساتھ اپنائے ہوئے تھے،
مسلم خواتین تعلیم یافتہ تھیں واعظ و تقریر کہا کرتی تھی تلقین و ہدایت کے بھی فرائض انجام دیتی تھیں اور یہ سب امور پسے پردہ انجام پاتے تھے،
یہ معیار اور پیمانہ ہرگز نہیں ہو سکتا جو آج ہم نے اپنے ذہن میں بٹھا لیا ہے کہ دوسری اقوام کی طرح آج بھی ہم ترقی کر سکتے ہیں اگر ہم ان کی ثقافت، تہذیب اور روایات کو اپنا لیں،
یہ سب ہم اقوام مغرب پہ فریفتہ ہو کر کہتے ہیں، حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، ہمارے اصول و قوانین اسلامی اقدار ضابطہ اخلاق ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہرگز نہیں ہو سکتے،
لہذا کوشش کیجئے اپنی روایات کو زندہ کریں اور اپنی تہذیب کے ساتھ مضبوطی سے جڑ کر ترقی کی طرف قدم بڑھائیں،
برعکس اس کے کہ ہم ترقی کرنے کی غرض سے اپنی روایات کو مسلسل روندتے چلے جائیں اور پھر ہمارے اس سفر کے اختتام پر جسے ہم ترقی سمجھ رہے ہوں گے اور اپنی منزل پانا،
درحقیقت ہم نا تو اپنی منزل پا سکیں گے اور شاید سفر کے بجائے ہمارا اختتام ہو جائے،
اور پھر ہمیں دیکھ کر یا سوچ کر یا پڑھ کر کوئی یہ نہ کہے کہ،
”تم تو نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے”

@zsh_ali