بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمن ملاقات، حکومت مخالف تحریک سے متعلق کیا فیصلے ہوئے؟ بڑی خبر آ گئی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوشش ہوگی کہ ہم مل کرعوام دشمن بجٹ منظورنہ ہونے دیں. اس موقع پر حکومت مخالف تحریک کے حوالہ سے باہم مشاورت کی گئی اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جون کےآخرمیں اے پی سی بلائی جائےگی.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران بلاو ل بھٹو کیساتھ سید خورشید شاہ اور راجہ پرویز اشرف جبکہ مولانا فضل الرحمان کیساتھ عبدالغفور حیدری، مولانا عبدالواسع اور مولانا اسدالرحمان موجود تھے. پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ کٹھ پتلی حکمرانوں کو اقتدار سے نکالنا ہو گا. میرا موقف ہے کہ حکومت مدت پوری کرے تاہم مولانا فضل الرحمن کا خیال ہے کہ حکومت کو جانا چاہیے.

مولانا فضل الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نےملکی معیشت کا بیڑاغرق کردیا ہے- میں‌بلاول بھٹوکےموقف کی تائیدکرتاہوں. دھاندلی شدہ الیکشن کےموقف پر آج بھی قائم ہیں. جون کےآخرمیں اےپی سی بلائی جائےگی. متفقہ موقف لےکرتمام سیاسی جماعتیں میدان میں آئیں گی،. پروڈکشن آرڈرجاری نہ کرنےکامطلب حکومت کاجبری بجٹ پاس کراناہے. ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ پاکستان کا بجٹ نہیں،یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے. معاشی طورپرہمیں غلام بنادیاگیاہے،تاریخ میں اتنےقرضےنہیں لیے گئے جتنے اب لئے جارہے ہیں. واضح رہے کہ ابھی کچھ دیر بعد مولانا فضل الرحمن شہباز شریف سے بھی ملیں گے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.