سلیکٹڈ لفظ پر پابندی سنسر شپ ہے.بلاول بھٹو

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو کی اسمبلی میں دھواں دار تقریر جاری.حکومت پر کھل کر تنقید .لفظ سلیکٹڈ پر پابندی سے سیخ پا ہو گئے .کہ دیا اگر یہ سنسر شپ نہٰیں تو اور کیا ہے. بلاول بھٹو نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی آزادی ہے کہ معزز ممبران کے الفاظ حذف کردیئے جاتے ہیں. اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو آزاد ہیں کسی سے پوچھنے کے پابند نہیں پھر ایسے کیوں‌ہو رہا ہے. آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈرجاری کرنے پر اسپیکر کے شکر گزار ہیں.

بلاول بھٹو نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان میں یہ ممبران منتخب ہو کر آئے ہیں.اس ملک میں عوام نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں. وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا وزیر اعظم ہے کہ رات کے اندھیرے میں خطاب کرتا ہے میری تو سمجھ سے باہر ہے آخر ایسا کیوں ہوا.بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ وزرا کے رویے کی قوم سے معافی مانگتے ہیں.اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سنسر شپ سے ماحول خراب ہو رہا ہے.بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں اسپیکر پر بار بار تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میرا ہر دوسرا لفظ حذف کر دیا جاتا ہے.

اسپیکر کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹو عمران خان کو اپنے خطاب کے ذریعے حدف تنقید کا شکار کرتے رہے. بلاول بھٹو نے کہا کہاں ہیں وہ نوکریاں جن کا قوم سے وعدہ کیا گیا تھا .بلکہ معاملات تو مخالف سمت جا رہے ہٰیں نوکریاں دینے کی بجائے لوگوں کو بے روزگار کر رہے ہو.کہاں ہیں وہ 50 لاکھ مکان جن کا آپ بار بار تذکرہ کرتے رہے ہیں .اس بجٹ میں اعلان کیوں نہیں کیا .ہم عمران خاں کے دوپاکستان کو نہیں مانتے جہاں غریبوں کے لیے الگ اور امیروں کے لیے الگ قانون ہے. پاکستان پر قرضوں کے حوالے سے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا حکومت ہمیں قرضوں کو تو ذمہ دار قرار رہی ہے خود کیا کر رہی ہے .یہ حکومت تو خودروزانہ 15 ارب کے قرضے لے رہی ہے.ہم سے کس منہ سے ان قرضوں کا حساب مانگتی ہے. نیب کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس ملک نیں نیب گردی اور جمہوریت اکٹھے نہیں چل سکتے .حکومت دوغلی پالیسی بند کرے اور عوام دشمن بجٹ کو واپس لے ہم بھی اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں.حکومت کو چاہیے کہ اس نظام پر نظر ثانی کرے دوغلا نطام اس ملک میں نہیں چل سکتا جہاں وزیر اعظم ہاوس سے نیب چیئر مین کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.