fbpx

بلاول بھٹو کی قبل ازوقت سیاسی ٹکریں  تحریر: علی خان

@hidesidewithak 

ابھی ان  تِلوں میں تیل نہیں 

ماں باپ سے بچوں کو وراثت منتقل ہونا تقریباً تمام معاشروں کی روایت ہے،،، والدین اپنی زندگی میں بچوں کو اپنی جائیداد کا وارث بنادیتے ہیں یا پھر انتقال کے بعد بچوں کو قوانین کے مطابق جائیداد، کاروبار بعض صورتوں میں نوکری وراثت میں ملتی ہے،،، سیاستدانوں کی جانب سے بچوں کو سیاسی وارث بھی بنایا جاتا ہے،،، مغربی معاشروں کو چھوڑ کر یہ روایت تقریباً تمام معاشروں میں پائی جاتی ہے کہ سردار کا بیٹا سردار اور وڈیرے کا بیٹا وڈیرہ بنتا ہے اور اپنے علاقے میں خاندان کی سیاسی روایات کو آگے بڑھاتا ہے،،، مضبوط جمہوری معاشروں میں بھی ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جیسے کینیڈا کے موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے والد بھی کینیڈا کے وزیراعظم رہے،،، اسی طرح امریکی صدور بش سینئر اور جونئیر بھی اسی کی مثال ہیں

مغربی سیاسی روایات اور ہمارے ہاں واضح فرق سیاسی جماعتوں کا ہے،،، مغربی سیاسی جماعتوں میں جماعت کی قیادت کی خاندان کی وراثت نہیں ہوتی،،، وطن عزیز میں اسے بھی وراثت کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے،،، یہ روایت بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں بھی پائی جاتی ہے،،، یہی کافی حد تک روایتی معاشرتی اور ملکی پسماندگی کی ذمہ دار بھی ہے،،، لیڈران کے بچوں کو بیٹھے بٹھائے بغیر محنت کے پہلے پارٹی اور پھر اقتدار کا سنگھاسن ملتا ہے تو اسے وہ خاندانی حق سمجھ کر مزے کرتے ہیں اور عوامی بہبود کا سوال کہیں پس پشت چلا جاتا ہے

ایسے ہی ایک لیڈر ہمارے بلاول بھٹو زرداری صاحب بھی ہیں کہ جنہیں والدہ کی شہادت کےبعد پارٹی کا کرتا دھرتا بنایا گیا،،، بلاول بھٹو کے حامی انکے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہونے اور شہدا کا وارث ہونے جیسے اوصاف گنواتے ہیں لیکن غیر جانبدار تجزیہ کار انکی سیاسی ناپختگی کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں،،، آصف علی زرداری صاحب کی جانب سے پارٹی کمان انکے ہاتھ اس امید پر دی گئی تھی کہ بلاول اپنی سیاسی وراثت کے بل بوتے دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں پارٹی کو بہتر پوزیشن دلا پائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا،،، بلاول صاحب کی سیاسی وراثت میں ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بھاری بھرکم کارنامے گنوائے جاتے ہیں لیکن انکی اپنی جماعت سندھ میں قریب تیرہ سال سے اقتدار میں ہونے کے باوجود سندھ کی بدترین حالت زار کسی سے چھپی نہیں ہے،،، بلاول بھٹو کی جانب سے یا تو موجودہ حکومت کی کارکردگی کا رونا ہوتا ہے یا پھر سندھ کی محرومیوں کا ،،، بلاول کی جانب سے سندھ کارڈ کھیلنا انکے والد آصف علی زرداری کا فیصلہ نظر آتا ہے جو بہت بار سبکی کا باعث بن چکا ہے

بلاول بھٹو کے "زیادہ بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے” جیسے بیانات انکی ناپختگی پر مہر ثبت کرتے ہیں،،، گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں پہلے جیت اور پھر دھاندلی کے دعوے کچھ سنجیدہ تاثر نہیں چھوڑ رہے،، انکی زیر قیادت پارٹی نے سندھ کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت میں بھی حکومت کی لیکن عوامی فلاح کا کوئی بھی پائیدار اور ٹھوس منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہی،،، جب بھی سندھ حکومت کے کسی منصوبے میں کرپشن، کراچی میں بے انتظامی جیسے معاملات کی بات ہوتی ہے تو بلاول بھٹو سندھ پر حملہ نامنظور جیسا رٹا رٹایا نعرہ لگا دیتے ہیں اور اصل سوال کو نظر انداز کردیتے ہیں،،، عوام کی جانب سے انکی ہمشیرہ آصفہ بھٹو کی سیاسی پختگی کو زیادہ پسند کیاگیا ہے،،، بلاول بھٹو کو جب پیپلزپارٹی کی قیادت دی گئی تو یہ وفاق میں حکومت کرنے والی وہ جماعت تھی جسکی تمام صوبوں میں موجودگی تھی لیکن اب یہ ایک صوبے تک محدود جماعت نظر آرہی ہے،،، بلاول بھٹو کے وقت سے قبل میدان میں اتارے جانے کا سب سے زیادہ نقصان انکی اپنی جماعت کو ہوا ہے،،، پی پی سربراہ کو سیاسی بلوغت نہ دکھائی تو بعید نہیں کہ آئندہ کیا مزید کئی الیکشن تک پیپلزپارٹی چاروں صوبوں کی زنجیر بننے کی بجائے صوبے سے بھی لاڑکانہ تک محدود ہوجائے

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!