fbpx

بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے سییٹ میں قائد حزب اختلاف کے لئے درخواست جمع کروانے پر ن لیگ نے اظہار ناراضگی کیا ہے

ن لیگی قیادت نے پیپلز پارٹی کے اس فیصلے کو پی ڈی ایم کے فیصلوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ پی ڈی ایم کے مشاورتی اجلاس میں معاملے پر غور ہوگا،ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے فیصلے پر جلد باضابطہ رد عمل دیں گے،

پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے لئے درخواست جمع کروائی ہے، ن لیگ کی رہنما مریم نواز کہہ چکی ہیں کہ قائد حزب اختلاف ن لیگ سے ہو گا تا ہم پیپلز پارٹی نے اپنی درخواست جمع کروا دی ہے، پی پی کی کوشش ہے کہ قائد حزب اختلاف پی پی سے آئے اور پیپلز پارٹی نے جوڑ توڑ شروع کر رکھی ہے، سینیٹ میں پیپلز پارٹی دوسری بڑی جماعت ہے،

30ارکان کی حمایت کے دستخط کے ساتھ درخواست چیئرمین سینیٹ کو جمع کرائی گئی،پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ 30اراکین کے دستخط کے ساتھ درخواست جمع کروائی 21پیپلزپارٹی، 2 اے این پی ایک جماعت اسلامی کا رکن شامل ہے،فاٹا2، دلاور خان کے آزاد گروپ کے 4 ممبران نے حمایت کی ہے،پی ڈی ایم کا کوئی جنازہ نہیں پڑھا گیا یہ پیپلزپارٹی کا حق تھا،

مولانا فضل الرحمان نے پچھلے ایک ہفتے میں آصف زرداری اور بلاول سے کم از کم تین بار رابطہ کیا تا ہم پیپلز پارٹی نے مولانا کی نہ سنی اور ن لیگ کا قائد حزب اختلاف ماننے کی بجائے اپنی درخواست جمع کروا دی، اب آنیوالے دنوں میں پی ڈی ایم کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا پیپلز پارٹی کے نواز شریف کے واپس بلاونے کے مطالبے کے بعد ہی اندازہ ہو گیا تھا تا ہم جو لوگ ابھی تک اس خوش فہمی میں ہیں کہ پی ڈی ایم متحد ہے اور رہے گی، اب ایسا ممکن نہیں رہا، پیپلز پارٹی نے اپنی گریٹ گیم کا آغاز کر دیا ہے،

زرداری کی گریٹ گیم ،مولانا کی منتیں بھی کام نہ آئیں،پی ڈی ایم کو ایک اوربڑا جھٹکا