بنت حوا :از قلم :بنت محمد اشرف

*بنتِ حوا*

*از قلم: بنتِ محمد اشرف*

اے بنت حوا سنبھل ذرا تو
یہ کس راہ پے جا رہی ہے؟
تو کتنی معصوم تو کتنی سادہ
مقام جو تجھ کو دیا خدا نے
کیوں اس سے نیچے تو آ رہی ہے
یہ میٹھی باتیں ہیں
جو تجھ سے کرتے…
نہیں ہیں یہ تجھ سے پیارکرتے !!
کیوں خود کو ان کے لئے تو…
تسکیں کا ذریعہ بنا رہی ہے
حرام ایسی محبتیں ہیں
نہیں ہے ان میں کوئی کمال رکھا
اسی لئے تو میرے رب نے بھی
نہیں ہے ان کو حلال رکھا
کیوں حکم ربی بھلا رہی ہے
یہ تو کس راہ پہ جا رہی ہے
بناحجاب و نقاب کہ گر تو
سرِبازارجارہی ہے
ابن آدم کے دل کا مرض تو
اسی طرح تو بڑھارہی ہے
بے حیائی پھیلارہی ہے
بنا کے خود کو نظارہ دعوت
پھر بھی ابن آدم پہ بد نظری …
الزام تو لگا رہی ہے
تو اس کو برا بنا رہی ہے
یاد رکھ یہ سب کر کے تو
بابا کی عزت گنوا رہی ہے
بھائی کے سر کو جھکا رہی ہے
سکون اس میں ذرا نہیں ہے
گھر اپنا جہنم میں تو
اسی طرح تو بنا رہی ہے
دیکھ اس کو ذرا جو بیٹی مسلماں کی
سات پردوں میں خود کو چھپائے سرراہ گزرتی جا رہی ہے
دیکھ کر جسے پکارے ہر اک
ارے بیٹی مسلماں کی دیکھو…
وہ شہزادی اسلام کی جا رہی ہے
اے بنت حوا سنبھل ذرا …
یہ کس راہ پے جا رہی ہے؟؟؟
"””””””””””___”””””””””””””__

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.