fbpx

پی ٹی ایم کے کم عقل مشر اور بھارتی چال تحریر:عرفان ممند

پی ٹی ایم کے مشر اعظم منظور پشتین نے ایک ٹویٹ کیا۔ جس کا عکس آپ اس تحریر کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں اور یہ ٹویٹ تاحال ان کے ٹویٹر کی ٹائم لائن پر موجود ہے۔ ٹویٹ میں انھوں نے ایک اطالوی صحافی کا مضمون پوسٹ کیا ہے۔ مضمون کا ٹائٹل ہی کئی لوگوں کے کان کھڑے کر دینے والا ہے:
Taliban back in Waziristan? Or may be ‘they never left’

اردو میں لکھیں تو:
کیا طالبان وزیرستان میں واپس آگئے ہیں؟ یا شاید وہ ‘کبھی یہاں سے گئے ہی نہیں تھے’

مضمون کی مصنفہ فرانسسکہ مارینو نامی اطالوی صحافی ہیں۔ موصوفہ "Apoclypse Pakistan” نامی کتاب کی مصنفہ ہیں جس میں بھارتی موقف کو ترجیح دیتے ہوئے انھوں نے 2611 کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی ایک ناکام سی کوشش کی تھی۔

اس نئے مضمون میں بھی انھوں نے بجائے گراونڈ ورک کرنے کے پی ٹی ایم اور اس تنظیم سے جڑے کرداروں کو (جو کہ پاکستان کے ایک مخصوص طبقہ کے نمائندے بھی ہیں) ہی موقع دیا ہے کہ وہ اپنا موقف دیں اور اسی پر بنیاد رکھتے ہوئے پورا مضمون لکھ ڈالا جس میں انھوں نے بڑی ڈھٹائی سے پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینکا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ طالبان کبھی وزیرستان سے نکلے ہی نہیں اور پاکستانی ایسٹبلشمنٹ یا عرف عام میں پاکستانی فوج نے جو کچھ بھی دہشت گردوں کے خلاف کیا وہ ایک ٹوپی ڈرامہ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ (حالانکہ اب تو بین الاقوامی رائے عامہ کا اس بارے میں واضح موقف ہے)

اب اس مر مزید یہ کہ مضمون کہیں اور نہیں بلکہ ایک بھارتی آن لائن نیوز ویب سائیٹ The Quint میں چھپا ہے۔

چلیں اطالوی خاتون اور ان کے بھارتیوں سے زیادہ پیار کی کوئی نہ کوئی توجیح نکل آئے گی مگر سوال یہ ہے کہ بالکل اسی انداز میں پاکستان کے پشتونوں کے چند خیر خواہ بالکل اسی انداز میں ان دونوں پر فریفتہ کیوں ہورہے ہیں؟ اور وہ بھی عین ان دنوں میں جب پی ٹی ایم کو ایک طرف پی ٹی ایم سے جڑے کچھ کارکنان کے والدین نے ایکسپوز کرنا شروع کیا ہےتو دوسری طرف کشمیر کے مسئلے پر بھارت کو پوری دنیا میں شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ اور اس کے بیانئیے کو جس مین اس نے ہمیشہ پاکستان کو ایک دہشت گردوں کا گڑھ قرار دینے کی ناکام کوشش کی، اس بیانییے کو شکست کا سامنا ہے، ایسے میں ایک بھارت نواز صحافی کی بھارتی جریدے میں چھپی ایک پراپیگنڈا تحریر کو پہلے فرحت اللہ بابر، پھر بشری گوہر پھر LUMS کی پروفیسر اور ٹویٹر پر Resistance movement کی سرخیل ندا کرمانی(اس تحریک پر بھی جلد ہی آپ لوگوں کو کچھ مطلع کروں گا) نے شئیر کیا پھر ثنا اعجاز اور پھر آخر میں مشر اعظم منظور پشتین نے اس پوری تحریر کو پورے طمطراق کے ساتھ اپنی ٹائم لائن پر چسپاں کر دیا۔ یاللعجب

یہ وہی منظور ہے جو اپنے آپ کو غیرت مند پشتونوں کا والی سمجھتا ہے اور اس کا اور اس کے اس پاس کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کے جریدے کا پراپیگنڈا تحریر پھیلا رہے ہیں جس پر اس وقت پوری دنیا میں تھو تھو ہورہی ہے۔

میں نے پہلے سوچا تھا کہ ڈاکٹر عبدالحئی اور ان کے والد ڈاکٹر نور محمد کے حوالے سے کچھ لکھوں گا اور اس میں یہ بتانے کی کوشش کروں گا کی کیسے ٹی ٹی پی کے خارجیوں کی طرح پی ٹی ایم کے خارجیوں پر بھی کم و بیش وہی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں جن کا احادیث میں کئی بار ذکر کیا گیا ہے۔ فرق صرف بندوق اور موبائل فون کا ہے۔ کام دونوں کا ایک ہی ہے، تفرقہ، فتوی اور تقسیم در تقسیم۔

مگر اس تحریر کا منظور کی ٹائم لائن پر آنا اور اس کی تنظیم سے جڑے باقی لوگوں کا اس تحریر کو پھیلانا۔۔ اس بات نے آمادہ کیا۔۔ کہ پہلے اس بات کو اپنے پی ٹی ایم کے پشتون بھائیوں سے کھل کر پوچھا جائے کہ ٹھیک ہے تم لوگوں نے جہاد کا مذاق اڑایا اپنے مشر اعظم کے کہنے پر، تم نے پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کی، تم نے لر و بر کا نعرہ لگایا، تم نے پشتون ولی کا علم اٹھانے کا دعوی کیا مگر تم لوگوں کی غیرت کو کیا ہوا کہ تم لوگ بھارت کے پراپیگنڈا کو اپنی بات بنا کر پیش کرنا شروع ہوگئے ہو؟ کیوں تم لوگوں نے پشتون نوجوانوں کو اسی راہ پر لگانے کی واضح کوششیں شروع کردی ہیں جس راہ پر کسی زمانے میں BLA, BRA اور TTP جیسی دہشت گرد تنظیمیں کم عقل نوجوانوں کو لگاتی تھیں؟

تمھاری عقل کو کیا ہوگیا ہے؟ تم لوگ یہ دعوی کرتے ہو کہ تم حکمران رہے ہو، اس خطے کے۔ چلو مان لیا، تو کیا حکمرانوں کی اولاد اتنی بے عقل ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات سے اپنی ہی قوم کو کمزور کرے گی؟

اب وقت ہے کہ راستہ سیدھا رکھتے ہوئے ہم پشتون عوام کے اصلی مسائل پر بات کریں۔۔

تعلیم، تعمیر اور خوشحال مستقبل کی بات کریں۔

صحت بمع سہولت کی بات کریں۔

بات کریں تو اپنے پیاروں کی ان کے مستقبل کی اور اس مستقبل کا پشتون قوم اور علاقے کی ترقی سے جڑے خواب کی۔

بھارتی سورما جو کچھ کشمیر میں کر رہے ہیں اور آج جو انھوں نے 19 لاکھ آسامی مسلمانوں کے ساتھ کیا اور جو وہ افغانی مسلمانوں کے ساتھ کر چکے وہ تم سب کی آنکھیں کھول دینے کے لئیے کافی ہونا چاہئیے۔

پشتون زندہ باد
پاکستان پائندہ باد