fbpx

وہی عمر رضی اللّٰہ عنہ 22 لاکھ مربع میل کے حاکم تحریر: خنیس الرحمٰن

میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔یہ اللّٰہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ۔کون عمر وہی عمر جو شیطان کے راستے میں آجاتا تو وہ اپنا راستہ تبدیل کرلیتا۔وہی عمر جس جو اللّٰہ کے نبی کی دعا تھا کہ اللّٰہ عمرو بن ہشام اور عمر بن خطاب میں سے کوئی ایک عطاء کردے جسے اسلام کو تقویت مل جائے ۔دعا کہ کچھ روز بعد عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذاللہ قتل کے ارادے سے جارہے تھے لیکن اللّٰہ نے عمر کو ساری زندگی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا محافظ بنا دیا ۔وہی عمر جس نے اسلام قبول کیا اور مکہ میں جاکر بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی کسی کی جرأت نہیں تھی کہ عمر کو ہاتھ بھی لگا کر دکھائے ۔ہر چوک چوراہے میں جا کر عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لوگوں کو پہنچاتے ۔
وہی عمر جس سے پوچھا گیا تقوی کیا یے کہنے لگے میں جب خطاب کی بکریاں چرایا کرتا تھا راستے میں جو کانٹے پڑے ہوتے اس کاہٹاتا اسی کو تقوی کہتے ہیں ۔
وہی عمر جو ہر محاذ پر ہر میدان میں اللّٰہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ ہوتے ۔
وہی عمر جس کے بارے میں اللّٰہ کے نبی ان سے کہا اے عمر میں نے جنت میں تیرا گھر دیکھا لیکن مجھے تیری غیرت یاد آگئی۔
وہی عمر جب سلطنت کے حاکم بنے تو شاہانہ زندگی گزارنے والا عمر ٹاٹ کے بستر پر سونے لگا ۔زیتون کے تیل کے ساتھ روٹی کھا نے والا ۔کوئی عمر کی عدالت میں کیس لیکر آتا پاکستان کی عدالتوں کے فیصلے کی طرح مایوس ہوکر نا جاتا ۔اگر والی مصر کا بیٹا بھی جرم کرتا تو اس کو بھی سزا دینے کے لیے تیار ہوجاتے آؤ وقت کے حکمرانوں کچھ سیکھو عمر سے جو 22 لاکھ مربع میل کا حاکم تھا ۔
وہی عمر جو زمین پر بات کرتا اللّٰہ قرآن کی آیت بنا کر نازل کردیتا ۔
وہی عمر جس کے عہد میں وہ علاقے فتح ہوئے جس کے بارے میں اللّٰہ کے نبی نے نوید سنائی ۔
وہی عمر جو اس بات سے بھی سے بھی ڈرتے اگر فرات کے کنارے کتا بھی مرجائے تو مجھ سے سوال کیا جائے گا ۔
وہی عمر جس کے بیٹے نے اسامہ بن زید کے وظیفے کے متعلق کچھ کہا تو عمر نے وہ عام باپ کا بیٹا نہیں بلکہ موتہ کے شہید کا بیٹا ہے۔
وہی عمر جس نے انصاف کے تقاضوں پورا کیا اور جو انصاف کے تقاضوں پر قاضی پورا نا اترتے تو ایکشن لیتے ۔
وہی عمر اگر اس کی سلطنت کا کوئی وزیر مشیر یا گورنر شاہانہ طرز زندگی گزارتا ضروریات زندگی کے بے جا استعمال کرتا فوری جاکر اس غیرت دلاتے اور تنبیہ کرتے ۔
وہی عمر جس کے پاس ہار لیا جاتا مال غنیمت کا ملا ہوا واپس قاصد کے پاس پھینک دیتے ۔

وہی عمر جو دعا کیا کرتے اے اللّٰہ مجھے موت دینا تو شہادت کی اور شہر مدینہ میں یہی ہوا نماز فجر ادا کررہے تھے ابو لو لؤ فیروز نے ان پر خنجروں کے وار ان کے پیٹ میں کیے شدید زخمی ہوگئے اور تین روز بعد زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے رب کی جنتوں کے مہماں بن گئے اور نبی آخر الزمان کے پہلو میں آپ کو دفن کردیا گیا ۔
اللّٰہ کڑوڑوں رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے عمر رضی اللہ کی قبر پر اور ان کی مٹی کو سیراب کرے ۔
یکم محرم الحرام کا دن عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا یے کہ اگر عمر جیسا حکمران چاہتے ہو تو عمر جیسی رعایا بھی بننا پڑے گا ۔
گذشتہ چند روز قبل ٹویٹر کے اوپر ٹرینڈ چلایا گیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن چھٹی دی جائے تعطیل کا اعلان کیا جائے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تعطیل کے دن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ہمیں کرنا یہ ہوگا کہ اس دن ہم اپنے دفاتر, اداروں, سکول و کالجز اور یونیورسٹیز میں یعنی کے ہر مقام پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمات کو ان کی سیرت کے پہلوؤں کو اجاگر کیا جانا چاہئے.
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آج کے ہر حکمران اور رعایا کے لئے ایک کردار ہیں جن کی زندگی کے اہم پہلوؤں کو ہم پڑھ کر اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ہمیں معلوم ہو ریاستیں کیسے چلتی ہیں اور تبدیلی کیسے آتی ہے.