ورلڈ ہیڈر ایڈ

دلکش ظاہری دنیا کے گھناؤنے مخفی پہلو تحریر: محمد عبداللہ اکبر

ہم جس سمت یا نظر سے دنیا دیکھ رہے یا ہمیں دیکھائی جا رہی ہے دنیا اس سے یکسر مختلف ہے
ہمیں اقوام متحدہ پڑھائی جا رہی ہے
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں دیکھائی جا رہی ہیں۔
ایڈ کے نام پہ ایسی ایسی فاؤنڈیشنز اور تنظیمیں دیکھائی جا رہی ہیں جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور ہے۔
ہمیں یورپ کا لبرل طبقہ دکھا کے براڈ مائنڈڈ بننے کی طرف اشارے کیے جا رہے ہیں۔
ہمیں سیکولر لوگوں سے سنگتیں  بنانے کا درس دیا جاتا رہا ہے۔
جبکہ اگر ہم بڑی بالغ نظری سے دنیا کو دیکھیں تو یہی لوگ جو ہمیں ان سب چیزوں کی اقتدا کا درس دیتے نظر آ رہے ہیں یہ اپنی مذہبی جنونیت سے بھرے ہوئے اسلام مخالف درندے ملیں گے۔
چند ایک نہیں یہ سارے کے سارے ہی ایسے ہیں۔
دیکھا نہیں کبھی یہودیوں نے ہٹلر کو قاتل یا درندہ کہنے نہیں دیا جبکہ اس کے قتل جیسا قتل بھی کسی نے کیا ؟؟؟
اور آ جائیں دیکھیں عیسائیوں کو وہ یاد ہے نا نیوزی لینڈ والا واقعہ دکھائیں کسی یورپی ملک کے ٹیلی ویژن نے اسے دہشتگرد گردانا ہو۔
سفید فام نسل پرست بس اس سے آگے اس پہ کوئی لیبل لگایا ہو ؟؟
ان کی اداکارائیں ہوں یا کوئی اور سلیبریٹیز۔۔۔ کتنی دفعہ ایسا سامنے آیا کہ وہ ان کی ایجنسیز کے کام کرتی ہوئی پکڑی گئیں۔
یہی ہے نا جن کو تم لبرل سیکولر کہہ کے اپنے اصل اپنے دماغوں کو کرید رہے ہو ؟
اور دوسری طرف ہم نابالغ سے مسلمان۔۔۔!!
اقوام متحدہ
اس کے اگر کام دیکھو تو وہ ہمیں محض ایک خول نظر آئے گا ہم نے اس کے ظاہری خول کو ایکسپٹ کیا جبکہ اس کے نیچے چھپا وہ یورپ زدہ انسانیت مخالف چہرہ کبھی دیکھنےکی جرات نہ کی۔
کوئی کرے بھی کیسے ؟؟؟
ایسا کہنے والے کو جذباتی مولوی، ملاں کہہ کے ٹھکرانا تو ہمارے معاشرے کا بہت سستا سا جملہ ہے جو انہوں نے ہمیں سستے داموں دیا اور ہم نے اسے ہاتھوں ہاتھ خریدا۔

لبرل ازم:-

لبرل ازم کی اصل تعریف اور اس کی اصلیت سے ناواقف مگر اس میں پورے کے پورے ڈوبنے کے لیے تیار…
دیکھو نا سامنے ہی ہے ہماری وہ دو ٹکے کی صباء قمر کی شکل میں نابلد سی سلیبریٹی، جو کبھی تو ”چیخ“ ڈارمے کو سامنے لے آتی ہے تو کبھی ”باغی”۔
تم کیا سمجھتے ہو یہ محض ڈرامہ ہی ہے ؟؟؟
نئی بھائی یہ ڈرامہ نہیں ہے کون ایسی سکرپٹس پہ پیسا پانی کی طرح بہاتا ہے؟؟؟
پورے کا پورا ایک ایسا خاندانی نظام سامنے رکھنے کی کوشش کی جاتی کہ جس میں لفظ ”اسلامی معاشرے“ کی بالکل مخالفت کی جاتی ہے۔
اور ہمارے معاشرے کی عورت انہی کی انسٹا سٹوریز کو فالو کر رہی ہوتی ہیں جن میں ان کا جسم پردے اور ستر سے ترستا دیکھائی دیتا ہے۔
اعتراض کرنے پہ سیدھا مولوی ملاں کا لیبل سامنے کھڑا پایا جاتا۔
تمہیں بتاوں لبرل ازم کیا ہے ؟؟
مہیش بھٹ کا اپنی بیٹی عالیہ بھٹ کو اپنی ران پہ بیٹھا کے برہنہ فوٹو شاپ کروانا
یہ ہے لبرل ازم۔۔۔۔
تم کہتے ہو کے یار ہم اس حد تک تو نہیں گئے۔
تو بھائی ان جیسی اداکاراؤں سے پوچھیں کہ ان کے گرو کون ہیں ؟؟
جھٹ جواب آئے گا دی لیجنڈ مہیش بٹ، امیتابھ بچن سر۔
باقی خود اندازہ لگا لیں۔
اور سیکولرزم
مذہبی قیود سے دور ایک آزاد معاشرہ
کیا حرام کیا حلال کون جانتا ان چیزوں کو بھائی ؟؟
یہ آج کل کی دنیا ہے مذہب، مسجد کی حد تک اچھا لگتا ہے یہ سیاستیں یہ ریاستیں یہ مذہب سے آزاد اچھی لگتی ہیں۔
ہوا وہی جو ان کی توقعات تھیں
انکا یہ منجن بھی مسلم دنیا نے ہاتھوں ہاتھ خریدا۔ کیونکہ بھائی ہم آج کی دنیا میں پیدا ہوئے ہیں
یہ مذہب چودہ سو سال پہلے کی غاروں میں چھپی چیزیں ہیں۔
ہمیں دکھایا یہ جاتا کہ کے بھئی مسلمانوں کا مسئلہ ہی دو وقت کی روٹی ہے۔
کیا دین، کیا جہاد یہ سب تو نفلی سی چیزیں تھیں جو ادا ہو گئیں اب آؤ ادھر خوراک کی طرف دنیا بھوکی مر رہی ہے اور تم ہو کے اسلام اور جہاد کے نعرے لگاتے بس نہیں کرتے۔
دیکھ لو پاکستان میں چلنے والی فاؤنڈیشنز پہ پابندیاں لگا کے تھر اور بلوچستان میں قادیانیت اور عیسائیت کے علمبرداروں کو کھلی فضا مہیا کر دی گئی کہ آؤ ہم نے اب اس قوم کا مسئلہ روٹی کپڑا اور مکان بنا دیا ہے ایک پلیٹ دو اپنا نظریہ چسپاں کرو اور ان کا نظریہ جس پہ پہلے ای ڈگمگاتے پھر رہے ہیں وہ ان کے اندر سے کریدو اور وہ یہ سب کام کر رہے ہیں۔
جبکہ اگر یہی کام اس ملک کے اندرونی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کریں تو جھٹ چند سیاسی اور لبرل گرگٹ اپنے گھروں سے پینٹ کوٹ پہن کے میڈیا کے نمائندوں کو بلا کے ہیپی ازم کا نعرہ لگاتے ہوئے الزام عائد کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ
جی ان کو زبردستی کلمہ پڑھایا جا رہا ہے
یہ تو ظلم ہے
یہ تو ان کے حق پہ ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے
نہیں سر۔۔!! ہم تو یہ نہیں ہونے دیں گے
ہم ٹھہرے ان کے ٹھیکے دار۔۔۔
جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اس جگہ ان لوگوں کو برادشت ہی نئی کرنا چاہتے جو وہاں فقط رضائے الٰہی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور اس قوم کو ان کا نظریہ دکھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
اس موقع پہ ایک شعر یاد آیا

مغربی تہذیب نے جادو کچھ ایسا کر دیا

ماں تو پردے میں رہی بیٹی کو ننگا کر دیا

ایک ثانئے رکیں اور سوچیں

کیا دیا ہمیں ان چیزوں نے ؟؟؟

رسوائی، ذلالت۔۔۔
دنیا میں محکومیت۔۔۔
یہاں تک کہ آج ہم اپنے حق کی خاطر بھی لڑنے سے پہلے دنیا کی طرف دیکھتے ہیں کہ مائی لارڈ اقوام متحدہ غصہ نہ کر جائے وہ کیا سمجھیں گے کے آپ تو سیکولر تھے، آپ تو لبرل تھے صاحب آپ کن چکروں میں پڑ گئے؟؟؟
ہم نے ان سب نعروں کی چمک میں جو چیز کھوئی وہ اپنی اصل تھی۔
زندگی کا ہر شعبہ ہماری ثقافت سے جڑا ہوا ہے جیسے روح اور جسم کا ساتھ آج ہم اس لیے مجموعی طور پہ زوال کا شکار ہیں۔
ہماری ثقافت سے ہی ہماری اقدار و روایات جڑی ہوئی ہیں افسوس صد افسوس…!!
کہ لوگوں نے ناچ گانے کو ہی ثقافت سمجھ لیا اسی کو فروغ دے کے وہ مغربی تہذیب کا حصہ بننے میں فخر محسوس کررہے ہیں اگر ہماری ثقافت ہمارے پاس ہوتی تو ہم یوں اقوام عالم میں ذلیل نہ ہوتے
اگر کوئی ایسے نظام کے خلاف دو بول بول دے تو ان کی کیسے کیسے جڑیں ہلانے کی کوششیں کی گئیں۔
سامنے ہے محمد مرسی رحمۃ اللّٰہ علیہ فوجی بغاوت کروا کے کہاں کا کہاں پہنچا دیا گیا۔
اور دوسری مثال ترکی وہ تو شکر یہ کے وہ قوم اپنی قیادت سے مطمئن تھی اور نظریے پہ کھڑی تھی سو بچ گئے۔
اور پاکستان میں چند لوگ جنہوں نے یہ باتیں کیں یا تو ان پہ زبان بندی، پابندی، یا وہ جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔

عزیزو!!
اب یہ تحریر پڑھ کے کچھ لوگ فنڈامنٹلسٹ، بنیاد پرست جذباتی اور پتہ نئی کیا کیا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کریں گے مگر اس کےالفاظ میں چھپا درد کاش ہر دل کا در کھٹکٹا کے دکھا سکتا اور سمجھا سکتا کے ہم کون تھے۔۔؟؟
کیا تھے۔۔۔؟؟ ہمیں کہاں ہونا چاہیے…؟؟
اور آج ہم کہاں ہیں۔۔۔؟؟
اور کس وجہ سے ہیں…؟؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.