کرونا وائرس لوگوں کےکس خون گروپ پرزیادہ اثراندازہوتا ہے ، نئی تحقیق نے کسی کوپریشان تو کسی کوبے فکرکردیا

بیجنگ :کرونا وائرس لوگوں کےکس خون گروپ پرزیادہ اثراندازہوتا ہے ، نئی تحقیق نے کسی کوپریشان تو کسی کوبے فکرکردیا،اطلاعات کے مطابق نئے نوول کورونا وائرس کی دنیا میں پھیلنے کی رفتار سائنسدانوں کی توقعات سے بھی زیادہ ہے اور وہ اس بارے میں مسلسل جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایسے کونسے عناصر ہیں جو اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی شرح میں تیزی سے اضافہ کررہے ہیں۔

ذرائع کےمطابق جیسے کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان میں نمودار ہونے والا یہ وائرس اس وقت لگ بھگ دنیا بھر میں پھیل چکا ہے جس سے 3 لاکھ سے زائد افراد متاثر جبکہ 13 ہزار سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں۔اس وبا کے نتیجے میں مختلف ممالک میں لاک ڈائون کیا جاچکا ہے اور پاکستان میں بھی صوبہ سندھ نے بھی اگلے 15 روز تک ایسا کرنے کا اعلان کیا ہے۔جبکہ 5 افراد کے اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں

اب سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی فرد کے خون کا گروپ بھی کووڈ 19 کے خطرے میں اضافے یا کمی پر ممکنہ طور پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔اس تحقیق کے دوران چین سے تعلق رکھنے والے 22 سو کے قریب کووڈ 19 کے مریضوں اور لاکھوں صحت مند افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ اے بلڈ گروپ والے افراد میں کووڈ 19 کا شکار ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے جبکہ او بلڈ گروپ کے مالک افراد میں یہ خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج ویب سائٹ medRxiv پر شائع ہوئے، جہاں اکثر سائنسدان تحقیق کے نتائج کسی جریدے میں شائع ہونے کے عمل کے دوران شائع کردیتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ مختلف بلڈ گروپس اور کووڈ 19 کے خطرے میں فرق ممکنہ طور پر خون میں موجود مخصوص اینٹی باڈیز کا نتیجہ ہے، تاہم اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔مختلف بلڈ گروپس کا کووڈ 19 کے خطرے پر ممکنہ اثر مریضوں کا علاج کرنے والے طبی ماہرین کے لیے اہم ہوسکتا ہے جبکہ اے بلڈ گروپ والے افراد کو مضبوط ذاتی تحفظ کی ضرورت ہوسکتی ہے تاکہ وہ انفیکشن کے امکان کو کم کرسکیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو طبی ماہرین کی زیادہ نگرانی اور علاج کی ضرورت پڑسکتی ہے، جبکہ مریض کے خون کے گروپ کی شناخت کووڈ 19 اور دیگر کورونا وائرس انفیکشنز کے علاج کے لیے ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔دیگر طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق طبی ماہرین کے لیے تو شاید مددگار ہو مگر عام شہریوں کو ان اعدادومشار کو زیادہ سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کا بلڈ گروپ اے ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ آپ سوفیصد اس بیماری کا شکار ہوسکتے ہیں، اور اگر آپ کا بلڈ گروپ او ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بالکل محفوظ ہیں، آپ کو ہر صورت ہاتھوں کو دھونے کی ضرورت ہے اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.