جنسی زیادتی کی ایک سچی کہانی پر مبنی مختصر فلم بلیو-دی کلائیڈو اسکوپ ریلیز

پاکستان میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے افراد کو معاشرے کی جانب سے کئے جانے والے سلوک پر ایک سچی کہانی پر مبنی مختصر فلم ‘بلیو-دی کلائیڈو اسکوپ ریلیز کردی گئی۔

باغی ٹی وی :بلیو-دی کلائیڈو اسکوپ کے عنوان سے جاری اس فلم میں یہ بتایا اور دکھایا گیا ہے کہ ایک طرف جہاں ریپ کا شکار ہونے والے افراد صدمے سے گزرتے ہیں تو دوسری جانب معاشرے کا رویہ بھی متاثرہ فرد اور اس کے خاندان کو دکھ سے دوچار کرتا ہے۔

View this post on Instagram

#SAYNOTORAPE #saynotosexualabuse 𝐓𝐑𝐈𝐆𝐆𝐄𝐑 𝐖𝐀𝐑𝐍𝐈𝐍𝐆: 𝚃𝚑𝚒𝚜 𝚏𝚒𝚕𝚖 𝚌𝚘𝚗𝚝𝚊𝚒𝚗𝚜 𝚒𝚗𝚏𝚘𝚛𝚖𝚊𝚝𝚒𝚘𝚗 𝚠𝚑𝚒𝚌𝚑 𝚖𝚊𝚢 𝚋𝚎 𝚝𝚛𝚒𝚐𝚐𝚎𝚛𝚒𝚗𝚐 𝚝𝚘 𝚜𝚞𝚛𝚟𝚒𝚟𝚘𝚛𝚜. 𝐒𝐲𝐧𝐨𝐩𝐬𝐢𝐬 “𝐇𝐞𝐫 𝐝𝐚𝐮𝐠𝐡𝐭𝐞𝐫 𝐰𝐚𝐬 𝐫*** 𝐚𝐧𝐝 𝐫𝐞𝐜𝐨𝐫𝐝𝐞𝐝. 𝐒𝐮𝐜𝐡 𝐚 𝐝𝐢𝐬𝐠𝐫𝐚𝐜𝐞 𝐭𝐨 𝐨𝐮𝐫 𝐧𝐞𝐢𝐠𝐡𝐛𝐨𝐫𝐡𝐨𝐨𝐝, 𝐰𝐡𝐚𝐭 𝐚 𝐬𝐡𝐚𝐦𝐞!” 𝐖𝐡𝐢𝐬𝐩𝐞𝐫𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐫𝐮𝐦𝐨𝐫𝐬 𝐨𝐯𝐞𝐫𝐰𝐡𝐞𝐥𝐦 𝐚 𝐧𝐞𝐢𝐠𝐡𝐛𝐨𝐫𝐡𝐨𝐨𝐝 𝐚𝐟𝐭𝐞𝐫 𝐉𝐚𝐦𝐢𝐥𝐚'𝐬 𝟏𝟎-𝐲𝐞𝐚𝐫-𝐨𝐥𝐝 𝐝𝐚𝐮𝐠𝐡𝐭𝐞𝐫'𝐬 𝐯𝐢𝐝𝐞𝐨 𝐠𝐨𝐞𝐬 𝐯𝐢𝐫𝐚𝐥. 𝐓𝐡𝐢𝐬 𝟗-𝐦𝐢𝐧 𝐬𝐡𝐨𝐫𝐭 𝐟𝐢𝐥𝐦: 𝐁𝐥𝐮𝐞 𝚒𝚜 𝚋𝚊𝚜𝚎𝚍 𝚘𝚗 𝚊 @bbcurdu 𝚛𝚎𝚙𝚘𝚛𝚝 𝚋𝚢 𝙰𝚖𝚋𝚎𝚛 𝚂𝚑𝚊𝚖𝚜𝚒, "𝐇𝐨𝐰 𝐫*** 𝐰𝐚𝐬 𝐟𝐢𝐥𝐦𝐞𝐝 𝐚𝐧𝐝 𝐬𝐡𝐚𝐫𝐞𝐝 𝐢𝐧 𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧" https://www.bbc.com/news/world-asia-31313551 𝚃𝚑𝚎 𝚏𝚒𝚕𝚖 𝚠𝚊𝚜 𝚛𝚎𝚌𝚘𝚖𝚖𝚎𝚗𝚍𝚎𝚍 𝚋𝚢 𝚝𝚑𝚎 𝚙𝚛𝚘𝚐𝚛𝚊𝚖𝚖𝚎𝚛 𝚊𝚝 @tribeca 𝚊𝚕𝚘𝚗𝚐 𝚠𝚒𝚝𝚑 𝚘𝚏𝚏𝚒𝚌𝚒𝚊𝚕 𝚜𝚌𝚛𝚎𝚎𝚗𝚒𝚗𝚐𝚜 𝚊𝚝 @ifva_hk 𝚊𝚗𝚍 @wow.pakistan

A post shared by Arash Visuals Inc. (@arashvisualsinc) on


9 منٹ 24 سیکنڈ پر مشتمل اس مختصر فلم میں ایک خاتون کی کہانی ہے جو 10 برس کی عمر میں ریپ کا شکار ہوتی ہے اور اس ہولناک واقعے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل کی جاتی ہے اور وہ بڑے ہونے کے بعد بھی صدمے میں رہتی ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ 10 سالہ بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے متاثرہ بچی اور اس کے اہلخانہ کو کس کرب سے گزرنا پڑا۔


یہ مختصر فلم سال 2015 میں پاکستان کے ایک دیہات میں 10 سالہ بچی کے ساتھ ریپ پر مبنی ہے جسے 4 افراد کی جانب سے ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد ویڈیو آن لائن وائرل کی گئی تھی۔


جب یہ ویڈیو بی بی سی اردو کو موصول ہوئی تھی تو ان کی جانب تحقیق بھی کی گئی تھی بعدازاں پولیس نے ملزمان کو گرفتار بھی کیا تھا اور انہیں ریپ، اغوا کے جرم اور ویڈیو شیئر کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

فلم میں ریپ کا شکار ہونے والی زہرہ نامی لڑکی کا کردار اداکارہ سندس شاہین نے ادا کیا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ ایسے واقعات کو سننے اور اسے محسوس کرنے میں فرق ہے۔

انڈیپنڈنٹ اردو کو دئیے گئے انٹرویو میں سندس شاہین نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک سین میں مجھے بہت زیادہ چیخنا تھا، ان کا کہنا تھا کہ میں نے اس کیفیت سے نکل نہیں سکی اور سین مکمل ہونے کے باوجود میں اس سے باہر نہیں آسکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میرے ہاتھ، پاؤں جیسے بے جان ہوگئے تھے۔

سندس شاہین کا کہنا تھا کہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے افراد اگر خاموش رہیں تو وہ اندر ہی اندر مرجاتے ہیں لیکن اگر وہ آواز اٹھائیں تو ان کے ارد گرد موجود لوگ انہیں مار دیتے۔

‘بلیو-دی کلائیڈو اسکوپ’ کے لکھاری اور ڈائریکٹر دانیال افضل خان نے بتایا کہ سال 2018 کے آغاز میں قصور میں زینب نامی بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد انہیں یہ فلم بنانے کا خیال آیا تھا۔

دانیال افضل خان نے کہا کہ انہوں نے سوچ لیا تھا کہ اب مزید چپ نہیں رہنا بلکہ ریپ کے واقعات کا ذکر جو ہمارے معاشرے میں ایک ٹیبو بنا ہوا ہے اسے ختم کرنا ہے۔

دانیال افضل خان نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے فلم کی ریلیز میں تاخیر ہوئی لیکن حال ہی میں موٹر وے پر ریپ کا واقعہ سامنے آیا تھا تو میں نے سوچا اس فلم کو اب ریلیز کرنے کا یہی وقت ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.