fbpx

بہت ہو گیا ہمیں الگ گورنر وزیراعلی چاہیے٫یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب کا مقدمہ اٹھا دیا

بہت ہو گیا ہمیں الگ گورنر وزیراعلی چاہیے٫یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب کا مقدمہ اٹھا دیا-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سینٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے حکومت کہتی ہے کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے، جبکہ پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں بھی اکثریت نا ہونے کے باوجود ہم نے باقی پارٹیز کے ساتھ ملکر اتفاقِ رائے سے آئین میں ترمیم کی-


یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں کہا کہ سینٹ سے صوبہ جنوبی پنجاب کا بل دو تہائی اکثریت سے پاس کرایا، ہم نے ہمیشہ سے صوبہ کا مطالبہ کیا ہے نا کہ سیکرٹریٹ،جنوبی پنجاب کا دارلخلافہ بنانا حکومت کی ذمہ داری نہیں، یہ پارلیمنٹ کا کام ہے صوبہ بن جائے گا تو دارالحکومت کا فیصلہ ہم کریں گے جب سیکریٹریٹ بنے گا پوچھناچاہتا ہوں، لوگوں کو نوکریاں ملیں گی یا نہیں۔

اگرنون لیگ شریف فیملی سے خودکو علیحدہ ہ کرتی ہے تو یہ مثبت پیشرفت ہوگی ، فواد چودھری


انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہم رعایا نہیں ہیں، ہمیں اپنا صوبہ، وزیراعلیٰ، گورنر، سینٹ نشستیں اور سیکرٹریٹ چاہیئے،جنوبی پنجاب صوبے کے لیے حکومت کے پاس اکثریت نہیں تو ہم سے بات کریں تین سال گزرنے کے باوجود حکومت نے ابھی تک اس مسئلہ پر کسی سیاسی جماعت سے بات نہیں کی-


سینیٹ اجلاس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تقریر پر جواب دیتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے تو ہم سے بات کریں جب ہماری حکومت تھی، ہمارے پاس سادہ اکثریت بھی نہیں تھی، اس کے باوجود اتفاق رائے سے 104 ترامیم کی گئیں۔

خیال رہے کہ سینیٹ میں اجلاس سے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ملتان اور بہاولپور میں جنوبی پنجاب کا سیکریٹریٹ قائم ہوگا سیاست میں کبھی لیٹ نہیں ہوتا، اگر نیت درست اور آپ واقعی چاہتے ہیں کہ صوبہ بنے تو پیپلز پارٹی ساتھ دینے کا وعدہ کرے بحث دارالحکومت یا سیکریٹریٹ کی نہیں ہورہی ہے، بات آگے لے کر چلتے ہیں اوروں سے بات اور اتفاق رائے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان میں قازقستان کے سفیر کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات

اُن کا کہنا تھا کہ جو انتظامی طور پر ممکن تھا وہ اقدامات ہم نے کیے ہیں تاکہ ایک سمت دے دیں آئینی ترمیم اور قرارداد درکار ہے، اس کے لیے ہم سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں جنوبی پنجاب صوبے پر ہم ہاتھ بڑھانے کو تیار ہیں، اس پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنا چاہ رہے ہیں جنوبی پنجاب حقیقت اختیار نہیں کرسکا کیونکہ قانونی رکاوٹیں سامنے آتی ہیں، آئیے مل کر راستہ تلاش کرتے ہیں، تیسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن سے بھی بات کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ مخدوم یوسف رضا گیلانی 9 جون 1952 کو سرائیکستان کے ضلع ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے ان کی مادری زبان سرائیکی ہے ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کا گدی نشین ہونے کی بنا پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے 1970 میں گریجویشن اور 1976 میں یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ یوسف رضا گیلانی فروری 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم ہیں۔ 2012ء تک مسلسل چار سال وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کے بعد وہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے لمبی مدت وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 19 جون 2012ء کو توہین عدالت کے مقدمہ میں سزا کی وجہ سے پارلیمان رکنیت اور وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

انھوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز سن 1978 میں کیا۔ یوسف رضا گیلانی نے 1983 میں ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنما سید فخر امام کو شکست دیکر چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہوئے۔

سیالکوٹ بزنس کمیونٹی کیجانب سے پریانتھا کمارا کے اہلخانہ کیلئے 0.1 ملین ڈالر امداد

1985 میں انہوں نے صدر جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیااور وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاوسنگ و تعمیرات اور بعد ازاں وزیرِ ریلوے بنائے گئے۔ راجا محمد ایوب انیس سو اٹھاسی میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اسی برس ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل نواز شریف کو شکست دی جو قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر امیدوار تھے۔

درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،قریشی

ان انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ کے رکن بننے اور اس مرتبہ انہیں بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سیاحت اور ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت ملی۔ سیاسی کیرئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر سنہ دو ہزار چار میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تین سو ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تاہم سنہ دو ہزار چھ میں یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی ۔

یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل میں اسیری کے دوران اپنی یاداشتوں پر مبنی پر ایک کتاب’چاہ یوسف سے صدا‘ بھی لکھی۔

حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے،چودھری پرویزالٰہی