برطانوی وزیر اعظم کیلئے ووٹنگ، بورس جانسن پہلے مرحلہ میں‌ کامیاب، پاکستانی نژاد ساجد جاوید کی پانچویں‌ پوزیشن

برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی جانب سے استعفیٰ کے اعلان کے بعد نئے وزیر اعظم کی دوڑ میں‌ سابق وزیر خارجہ بورس جانسن 114 ووٹ لے کر سر فہرست رہے ہیں‌ جبکہ دوسری جانب پاکستانی نژاد وزیر داخلہ ساجد جاوید نے 23 ووٹ حاصل کرکے پانچویں پوزیشن حاصل کی ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق برطانیہ کے موجودہ وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ حکمران جماعت کی سربراہی اور وزارت عظمیٰ کی کرسی کیلئے ہونے والی ووٹنگ میں 43 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ اور ملک کے نئے وزیر اعظم کے انتخاب کیلئے جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ میں سابق وزیر خارجہ بورس جانسن سب سے مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں‌ اور انہوں نے وزارت عظمیٰ کیلئے پہلے بیلٹ میں سب سے زیادہ 114 ووٹ حاصل کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں 10 میں سے وہ تین امیدوار ناک آﺅٹ ہوگئے ہیں جنہوں نے 17 سے کم ووٹ حاصل کئے. ان میں اینڈریا لیڈسم، مارک ہارپر اور ایستھر میک وے شامل ہیں۔ تھریسا مے کے استعفے کے بعد ملک کے نئے وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل امیدواروں کی تعداد 10 سے کم ہو کر 7 رہ گئی ہے۔ بورس جانسن جنہوں‌ نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں‌ وہ بریگزٹ‌ کے حامی ہیں. آج سابق وزیر خارجہ بورس جانسن نے برطانوی دارالعوام کے ایوان زیریں میں کنزرویٹو پارٹی کے قانون سازوں کی خفیہ ووٹنگ میں ڈالے جانے والے 313 میں سے 114 ووٹ حاصل کر کے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم کے لیے 2016 میں ہونے والی ووٹنگ میں دوسرے نمبر پر رہنے والی اینڈریا لیڈسَم، مارک ہائیپر اور ایستھر مِک وے مطلوبہ 17 ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں‌۔ واضح رہے کہ کنزر ویٹو پارٹی کی سربراہی اور وزارت عظمیٰ کی کرسی کیلئے پارٹی کے ارکان اسمبلی ووٹ کرتے ہیں. پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اب یہ ارکان دوسرے مرحلے کیلئے ووٹنگ کریں گے آئندہ ووٹنگ اب اٹھارہ، انیس اور بیس جون کو ہوگی۔ برطانوی وزیر اعظم کے انتخاب کیلئے حتمی مرحلے میں ووٹنگ 22 جون کو ہوگی جس کے نتائج کا اعلان 4 ہفتے بعد کیا جائے گا.

یاد رہے کہ 30 جولائی کو نئے برطانوی وزیر اعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں‌ گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.