fbpx

ماہی گیروں کا تنازع: برطانیہ اور فرانس کی ایک دوسرے کو دھمکیاں

ماہی گیروں کے تنازع پر برطانیہ اور فرانس نے ایک دوسرے کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں –

باغی ٹی وی : ماہی گیروں کے تنازع پر برطانیہ نے فرانس کو دھمکی دی ہے کہ وہ 48 گھنٹوں میں اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائے ورنہ اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فرانس نے ہٹ دھرمی دکھائی تو بریگزٹ ٹریڈ ڈیل کے تحت اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

جواب میں فرانس نے تنبیہ کی ہے کہ وہ منگل سے ٹارگٹ کرنے والے اقدامات شروع کرے گا جس میں ہمسائیہ ممالک کی طرف جانے والے ٹرکوں کی سخت نگرانی بھی شامل ہے۔

فرانس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ برطانیہ نے فرانسیسی ماہی گیروں کو لائسنس دینے سے انکار کیا ہے جس کے بعد اب جوابی کارروائی بھی کی جائے گی جبکہ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ فرانس کے ان تمام ماہی گیروں کو لائسنس دے رہا ہے جو پہلے بھی برطانوی پانیوں میں مچھلیوں کا شکار کرتے رہے ہیں۔

فرانس کا کہنا تھا کہ ٹرالر کے عملے کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں ہیں جبکہ ٹرالر کے مالک کے مطابق ان کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تنازع میں شدت آ گئی اور لندن میں پیرس کے سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کیا گیا۔

برطانوی سیکرٹری خارجہ لز ٹرس نے ایک بین الاقوامی نیوزچینل سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ فرانس غیرمعقول مطالبات کر رہا ہے، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم یورپین یونین کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدوں کے تحت اقدامات کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے اچانک گرم ہو جانے کے پیچھے ممکنہ طور پر فرانس میں اگلے برس ہونے والے صدارتی انتخابات ہیں۔

فرانس نے دھمکی دی ہے کہ اگر بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو وہ برطانوی ماہی گیر کشتیوں کو اپنے ملک کی بندرگاہوں پر سامان اتارنے پر پابندی عائد کر سکتا ہے، برطانوی ٹرالرز کی اضافی جانچ پڑتال کر سکتا ہے، ٹرکس پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر سکتا ہے اور کسٹمز کو دوبارہ سے نافذ کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ماہی گیری کے معاملے پر مسائل الجھتے جا رہے ہیں اور اب بات الزام در الزام کی جگہ عملی اقدامات پر آ چکی ہے گزشتہ ہفتے فرانس نے ایک برطانوی ٹرالر کو قبضے میں لے لیا تھا جو لی ہاروے کے نزدیک فرانسیسی پانیوں میں موجود تھا اور فرانس کا کہنا تھا کہ عملے کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں تھیں دونوں ممالک کے درمیان ماہی گیروں کے معاملے پر سخت کشیدگی پائی جاتی ہے اور اب بات عملی اقدامات تک پہنچ چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجارت سے زیادہ سیاسی معاملہ ہے جو اگر اس ہفتے حل نہ کیا گیا تو بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ فرانسیسی حکومت کو اگلے برس ہونے والے صدارتی انتخابات کے باعث عوامی دبائو کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اس کا رویہ زیادہ سخت ہےاس تنازع کے اثرات روم میں جاری جی 20 ممالک کی کانفرنس کے دوران بھی دیکھے گئے جب ماحولیاتی آلودگی اور عالمی معیشت جیسے معاملات پس پشت چلے گئے۔

تاہم گزشتہ روز اسی اجلاس کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی ملاقات ہوئی جو 25 منٹ تک جاری رہی دونوں رہنماؤں نے حالیہ کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ ماہی گیری کا یہ تنازع زیادہ شدت اختیار نہیں کرے گا۔