fbpx

بریکنگ، پاک بھارت تعلقات میں بڑی پیشرفت، تجارت بحالی کی منظوری دے دی گئی

بریکنگ، پاک بھارت تعلقات میں بڑی پیشرفت، تجارت بحالی کی منظوری دے دی گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک بھارت تعلقات میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے

باغی ٹی وی کی گزشتہ روز بریک کی جانے والی خبر ی تصدیق ہو گئی ہے پاکستانی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاک بھارت تجارت کو دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دے دی۔ پاکستان 30 جون 2021 تک بھارت سے کپاس کی درآمد کرے گا۔ چینی کی درآمد کے لئے بھی منظوری جلد متوقع ہے۔

سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے تجارت کی بحالی کی منظوری پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ان اقدامات کے بعد اب بھارت پر انحصار ہے کہ وہ آگے بڑھے

دوسری طرف باغی ٹی وی امید کرتا ہے کہ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز بھی شروع ہو جائے . اسی طرح انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بھی ایک دوسرے کے ساتھ پہلے کی طرح مل کر کام شروع کر دے گی .اس کے ساتھ ساتھ دیگر باہمی امور پر روابط بھی بحال ہو جائیں

خیال رہے کہ پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو معطل کردیا تھا. جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا تھا.اس کے بعد پاکستان اور بھارت کے حالات نہایت کشیدگی کیطرف جا چکے تھے ، میڈیا پر آئے روز یہ خبریں تھیں کہ اب جنگ ہوتی ہے . کیونکہ لائن آف کنٹرول پر بہت زیادہ کشیدگی رہی لیکن اب یہ کشیدگی معمول کی جانب گامزن ہے .

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیان بہت اہم ہے جب انہوں نے کہ اب آگے بڑھنا ہو گا ایل او سی پر سیز فائر ہونا چاہیے ، ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھیں ، امن بحال ہونا چاہیے . ہمیں‌مسئلے حل کرنا چاہیے آرمی چیف کے بیان کے بعد کے بعد وزیر خارجہ نے یواے سی کے وزیر خارجہ سے رابطہ کیا جبکہ اس کے اگلے روز ہی سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا ۔

باغی ٹی وی یہ خبر بھی شائع کر چکا ہے کہ یو اے ای کے حکام نے پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ضمن میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ سیز فائر کے بعد تجارت کی بحالی ہو گی اور پاکستان نے اب اہم قدم اٹھایا ہے۔ مودی کے خط کے بعد پاکستانی وزیراعظم کے جواب دینے کے روز ہی یہ سمری سامنے آئی جس میں بھارت کے ساتھ تجارت کی بحالی کی بات کی گئی ہے

پاکستان نے دو برس قبل پلوامہ حملے اور بعد ازاں بالا کوٹ پر بھارت کے فرضی حملے کے بعد بھارت کے طیارے گرائے اور بھارتی پائلٹ کو گرفتار کیا جس کو امن کے لیے پاکستان نے بھارت واپس روانہ کیا بعد ازاں اگست 2019 میں بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کر دیئے تھے ۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو لے کر پاکستان نے عالمی دنیا کے سامنے کشمیریوں کی آواز بلند کی تا ہم اب حالات میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے ۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور عالمی دنیا کی بھی یہی خواہش ہے کہ اس خطے میں امن آئے ۔امن آئے تو تو دونوں ملک غربت اور بے روزگاری سے نکلنے میں کامیاب ہوں گے

بھارتی وزیراعظم مودی کے عمران خان کو خط لکھے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر عمران خان کو مودی کا یار کہا جا رہا ہے تاہم حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کو خطے میں امن کے لئے کردار ادا کرنا ہے۔افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار دنیا تسلیم کر چکی ہے ایسے میں پاک بھارت تجارت کی بحالی خوش آئند امر ہے ۔پاکستان نے کرتارپور راہداری کھول کر بھی خطے میں امن کا پیغام دیا تھا جس کو عالمی دنیا نے سراہا تھا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.