fbpx

برطانیہ بحرانوں کی زد میں:کہیں سیاسی بحران توکہیں معاشی:کورونا نے بھی حملے تیزکردیئے

لندن:برطانیہ بحرانوں کی زد میں:کہیں سیاسی بحران توکہیں معاشی:کورونا نے بھی حملے تیزکردیئے،اطلاعات کے مطابق برطانیہ اس وقت کئی محاذوں پرنبردآزما ہے اور ایک ہی وقت میں کئی بحرانوں کا سامنا کررہا ہے،

برطانیہ جہاں ایک طرف سیاسی بحران بھی انتہا پرپہنچ چکا ہے تو دوسری طرف معاشی بحران نے برطانیہ کوبہت زیادہ متاثرکیا ہے ،بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی بڑا اضافہ ہورہا ہے،

اس دوران کورونا وائرس نے بھی پھر سے حملے تیز کردیئے ہیں‌، برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے برطانیہ میں کووِڈ کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہر20 میں سے ایک برطانوی شہری کووڈ کا شکارہورہا ہے اور یہ شرح بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہے، ادھر ذرائع کاکہنا ہے کہ کووڈ کی وجہ سے عوام کی بڑی تعداد اپنی تمام ترمصروفیات کومنسوخ کررہی ہے ، گھر میں رہ رہی ہے اور دوبارہ ماسک پہن رہی ہے۔

دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے ہفتہ وار انفیکشن سروے میں پتا چلا ہے کہ 6 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں 3.5 ملین برطانوی وائرس کا شکارہوچکے تھے کیونکہ قومی سطح پر کیسز میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ہوا ہے۔

اس شماریاتی ادارے کی چیف تجزیہ کار سارہ کرافٹس نے کہا کہ انفیکشنز ‘کم ہونے کے کوئی آثار نہیں دکھا رہے ہیں’ اورخدشہ ظاہر کیاکہ اس سال گرمی میں یہ رفتار بہت تیز ہوجائے گی اورمعاملات بگڑسکتےہیں

تعلیمی ادارے بند ہیں ، کرسمس کی تقریبات پھرخطرے میں ہیں اوراس وبائی مرض کے خلاف لڑنے والے رضاکاربہت زیادہ متاثرہیں

اگرچہ حکومت نے اس وقت تک پابندیاں دوبارہ عائد نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے جب تک کہ کوویڈ میں اضافہ جان لیوا نہ ہو جائے، سابقہ حالات کے پیش نظر برطانوی پہلے ہی بڑھتے ہوئے اعدادوشمار کے جواب میں اپنے طرز عمل میں نرمی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

آج میل آن لائن کے لیے کیے گئے ایک خصوصی پول میں پتا چلا ہے کہ پچھلے مہینے میں 10 میں سے تین لوگ کووِڈ سے بچنے کے لیے گھر پر ہی رہے ہیں اور 42 فیصد نے چہرے کا ماسک پہن رکھا ہے۔

تقریباً آدھے لوگوں نے سماجی دوری کے اصول کواپنایاہے ، جبکہ دو تہائی نے کہا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو بار بار دھونے کولازمی قراردیا ہے ۔ ریڈ فیلڈ اینڈ ولٹن سٹریٹیجیز کے 1,500 برطانویوں کے سروے کے مطابق، صرف 16 فیصد لوگوں نے یعنی چھ میں سے ایک نے پچھلے مہینے کے دوران کوئی احتیاط نہیں کی ہے۔