fbpx

برطانوی مسلمان حج کیلئے 11 ماہ پیدل سفرکرکےمکہ پہنچ گیا

52 سالہ برطانوی مسلمان آدم محمد 11 ماہ سفر کے بعد انگلینڈ سے مکہ حج کے لیے پہنچ گئے۔

باغی ٹی وی : برطانیہ میں 25 سال سے مقیم عراقی کرد نژاد برطانوی شخص آدم کے مکہ پہنچنے پر ایک بڑے مجمع نے ان کا استقبال کیا جس پر آدم نے استقبال کرنے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

شاہ سلمان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس، حج انتظامات کا جائزہ

غیر ملکی میڈیا کے مطابق آدم کا کہنا تھا کہ انھوں نے 10 ماہ اور 26 دن قبل برطانیہ سے مکہ کے لیے پیدل سفر کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد وہ 9 ملکوں کا سفر کرتے ہوئے اب رواں برس حج کی ادائیگی کے لیے مکہ پہنچے ہیں۔

انہوں نے 10 ماہ 25 دن قبل برطانیہ سے پیدل سفر کا آغاز کیا اور 11 ممالک سے ہوتے ہوئے مکہ مکرمہ معظمہ حج کے لیے پہنچے ہیں۔

آدم کے مطابق انھوں نے مکہ پہنچنےکے لیے سخت موسم سمیت ہر مشکل اور پریشانی کو برداشت کیا اور 6500 کلو میٹرکا سفر طےکیا کیوں کہ حج ان کی اولین خواہشات میں سے ایک ہے۔

اپنا سامان لے جانے کے لیے تین پہیوں والی گاڑی اور خود پیدل چل کر فریضہ حج ادا کرنے کے لیے آنے والے عراقی مسافراب برطانیہ سے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔

آدم محمد یکم اگست 2021 کو برطانیہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے لیے جولائی میں مقدس سرزمینپہنچنے کا ایک ہدف مقرر کیا تھا۔ وہ ترکی، شام اور اردن سے ہوتے ہوئے سعودی عرب پہنچے ہیں۔

امریکا نے چین اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی 36 کمپنیوں کو تجارتی بلیک لسٹ میں…

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے آدم محمد نے بتایا کہ ’میں تقریبا 25 سال سے برطانیہ میں مقیم ہوں، کرونا کی وبا کی وجہ سے کرفیو لگنے کے بعد میں قرآن پڑھنے اور سمجھنے میں مشغول ہوگیا اور قرآن کے ڈیڑھ سال کے گہرے مطالعے کے بعد میں ایک دن نیند سے بیدار ہوا تو دل میں ایسی آواز آئی گویا کوئی کہہ رہا ہو کہ تم پیدل مکہ شریف حج کے لیے چلو۔

آدم محمد کا کہنا ہے کہ مکہ معظمہ کے سفر کی تیاری میں انہیں صرف دو مہینے لگے اور سفرِ حج کے لیے ایک برطانوی تنظیم نے ان کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا-

آ دم محمد کا کہنا ہے کہ سفر بہت اچھا رہا۔ ’مجھے کسی جگہ تنگ نہیں کیا گیا۔ البتہ بعض ممالک کی پولیس نے شبے کی بنیاد پر پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا۔ البتہ راستے میں جگہ جگہ عام لوگوں نے میری بہت مدد کی لیکن میں نے خود کسی سے مدد نہیں مانگی ’میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ میری منشا کوئی ریکارڈ قائم کرنا نہیں ہے۔‘

ترکیہ فن لینڈ اور سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت پر رضامند

ایک ویڈیو کلپ میں آدم محمد کو مکہ معظمہ پہچننے پر بہت زیادہ خوش وخرم دیکھا جا سکتا ہے۔ 52 سالہ مسافر کا کہنا ہے کہ مکہ معظمہ پہنچنے میں انہیں 10 ماہ کا عرصہ لگا۔

باسیوں اور زائرین کی بڑی تعداد سیدہ عائشہ مسجد میں موجود آدم سے ملنے کے لیے پہنچ گئی اور آدم محمد کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔

اس سے قبل ایک برطانوی شخص فرید فیادی نے بھی 2020 میں لندن سے اسلام کے بارے میں مغربی میڈیا میں غلط فہمیوں کو ختم کرنے کے لیے اسی طرح کا سفر اختیار کیا تھا جرمنی میں مقیم ایک پاکستانی ابرار حسن نے بھی گذشتہ دنوں موٹر سائیکل پر سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔

ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا