fbpx

برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

لندن :برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی بھی چُھٹّی ہوسکتی ہے:تہلکہ خیزانکشافات ،اطلاعات کے مطابق اس وقت برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حکومت سخت خطرے میں ہے ، اس کی وجہ بہت سنگین بتائی جارہی ہے،

ادھر اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بدھ کو برطانیہ کی پارلیمان کے دارالعوام میں اس ویڈیو پر معذرت کر لی ہے جس میں ان کے سٹاف کو گزشتہ سال کرسمس کے موقع پر ان کی سرکاری رہائش گاہ پر مبینہ پارٹی پر بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

بورس جانسن نے پارلیمان میں اس معاملے پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد مرتبہ اس بات کی یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ کوئی پارٹی نہیں ہوئی تھی اور اعلان کیا کہ یہ انکوائری بھی کروائی جائے گی کہ آیا کووڈ کی وجہ عائد کسی ضابطے کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔

کرسمس کے موقع پر کووڈ کی پابندیوں کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے پارٹی کا اہتمام کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد سے بورس جانسن کی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔

اس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما کیر سٹامر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں اور ان واقعات کے بارے میں ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ہے۔

ادھر غلط بیانی پر یہ ویڈیو بورس جانسن کی حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے ،ویسے تو برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے لیے تنازعہ کوئی نئی چیز نہیں تاہم حالیہ دنوں میں وہ اور ان کی کابینہ ایک نئے سکینڈل کی زد میں آ گئے ہیں۔اس بہت بڑے جھوٹ نما سیکنڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ بورس جانسن کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے گا

اس بار ان کے لیے مشکل وہ ویڈیو بن گئی ہے جس میں ان کی اپنی پریس سیکریٹری یہ انکشاف کر رہی ہیں کہ گذشتہ برس دسمبر میں کووڈ 19 کے باعث لاگو پابندیوں کے باوجود وزیر اعظم آفس میں ایک پارٹی کا انعقاد کیا گیا۔

لیک ہونے والی ویڈیو کے مطابق اس پارٹی میں 40 سے 50 افراد شریک تھے اور یہ ویڈیو برطانیہ کے آئی ٹی وی چینل نے نشر کی ہے۔اب بورس جانسن کی طرف سے اقرار کرنے کےساتھ جہاں ان کی پریس سیکرٹری کو مستعفیٰ ہونا پڑا ہے ، بعض حلقوں نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بورس جانسن کی حکومت بھی چند دن کی مہمان ہے