fbpx

براڈ شیٹ انکوائری رپورٹ کاوے موسوی کے بعد سابق ہائی کشمنرعبدالباسط بھی میدان میں آگئے

اسلام آباد:براڈ شیٹ انکوائری رپورٹ کاوے موسوی کے بعد سابق ہائی کشمنرعبدالباسط بھی میدان میں آگئے،اطلاعات کے مطابق براڈ شیٹ انکوائری رپورٹ میں ذمہ دار قرار دیے جانے پر سابق ہائی کشمنرعبدالباسط کا ردعمل آگیا ،

سابق ہائی کمشنرکہتے ہیں‌ کہ انکوائری کمیشن رپورٹ میں ابہام ہے ، ایسا تاثر ملتا ہے جیسے تمام رقم میں نے ادا کی ، حالاں کہ براڈ شیٹ کو دیے گئے چیک پر میرے دستخط نہیں ، مجھے پیمنٹ ریکارڈ اور ایگریمنٹ کی کاپی واپس پاکستان بھیجنے کا کہا گیا ،

براڈ شیٹ انکوائری رپوٹ پرردعمل دیتے ہوئے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط کہتے ہیں کہ میں نے ہدایات کے مطابق تمام اوریجنل ریکارڈ ڈپلومیٹک بیگ کے ذریعے پاکستان بھجوا دیا ، میں کوئی لیگل اتھارٹی نہیں ہوں اور نہ ہی سیٹلمنٹ اگریمنٹ میں نے طے کیا ، میرا کام دی جانے والی ہدایات کی قانونی جانچ پڑتال نہیں ، کیوں کہ ہائی کمیشن تحقیقاتی ادارہ نہیں ہوتا۔

سابق سفیر عبدالباسط نے کہا ہے کہ ہمیں پاکستان سے خصوصی پیغام بھیجاگیا کہ براڈ شیٹ جبرالٹر کے ساتھ سیٹلمنٹ اگریمنٹ فائنل ہوگیا ہے ہمیں کہا گیا جیری جیمز آئیں گے انھیں پیمنٹ کیلیے چیک دے دیا جائے ، سفارتخانے کے پاس خطیر رقم نہیں ہوتی، اس لیے اسپیشل ریمی ٹینس کے ذریعے ہائی کمیشن پیسے بھیجے گئے ، 19 مئی تک پیسے نہیں آئے تو فیکس کے ذریعے دفترِخارجہ کو مطلع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ براڈ شیٹ کو 2 اقساط میں رقم کی ادائیگی کی گئی ، پہلی قسط میں 6 لاکھ اور چند ہزار ڈالرز ادا کیے گئے اس کے بعد میرا ٹرانسفر ہوگیا ، دوسری قسط ستمبر کے مہینے میں ادا کی گئی جب میرا لندن سے تبادلہ ہوچکا تھا ، اگر براڈ شیٹ میں کوئی مسئلہ تھا تو دوسری قسط کیوں بھیجی گئی۔

سابق سفارتکار کے مطابق ہائی کمیشن کو ہدایات نیب نے براہِ راست دیں ، ہائی کمیشن کو ہدایات اور ان پر عملدرآمد معمول کی کارروائی ہوتی ہے میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہ کام اسی طرح ہوتا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے کاوے موسوی نے بھی سخت ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ کے خلاف عدالت جارہےہیں اوران کی طرف سے لگائے گئے الزامات پراگرمعافی نہ مانگی توان کےخلاف ہرجانے کا کیس دائر کیا جائے گا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.