fbpx

نواز شریف کی بریت کے فیصلے کے خلاف نیب اپیل ،عدالت نے کیا دیئے ریمارکس؟

نواز شریف کی بریت کے فیصلے کے خلاف نیب اپیل ،عدالت نے کیا دیئے ریمارکس؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نوازشریف،مریم نواز کی سزا کے خلاف اپیلیں جلد سماعت کیلئے مقررکرنے کی نیب درخواستوں پرسماعت ہوئی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کرمنل اپیلیں مقررکرنے اوراپیلوں کے اسٹیٹس کی رپورٹ طلب کرلی جسٹس عامرفاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نےنیب کی متفرق درخواست پرسماعت کی نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل سردار مظفر عباسی عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایون فیلڈ ،العزیزیہ ،فلیگ شپ ریفرنس میں اپیلیں جلدمقررکرنے کی درخواست دی ، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بریت کے فیصلے کے خلاف نیب اپیل کی جلد سماعت کا کوئی جواز نہیں، جن ریفرنسز میں سزا ہوچکی ان کی جلد سماعت کی درخواست ہوسکتی ہے کورونا ایس او پیزکے باعث صرف اہم مقدمات کی سماعت کی جارہی ہے،ہماری اپنی ایک پالیسی ہے جس کے مطابق کرمنل اپیلیں سن رہے ہیں،عدالت نے رجسٹرار آفس سے 13 اپریل تک رپورٹ طلب کرلی-

نیب نے دائر درخواست میں کہا کہ سپریم کورٹ ہدایات جاری کر چکی کرپشن کیسز پر روز سماعت کی جائے، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اپیلیں جلد سنی جائیں،نیب نے نواز شریف کی اپیلیں جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواست میں کہا ہے کہ نو دسمبر 2020 کے بعد کیس سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوا اب جلد کیس کی سماعت کی جائے

نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں،عدالت نے نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے تھے ،جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حاضری سے استثنی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواستیں مسترد کردی تھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.