بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

دشمن نے گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی تک کبھی فضل اللہ، حکیم اللہ اور بیت اللہ کے ناموں کے ساتھ TTP بن کر منبر و محراب اور مساجد و مدارس کی حرمت کو پامال کیا بازاروں میں بم چلاۓ عام مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے اور پھر ان کا قتل عام کیا۔
بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر کلمہ طیبہ کی بنیاد اور اسلام کی اساس پر قائم مملکت خداداد پر مسلسل آتش و آہن کا بازار گرم کیے رکھا۔ جب افواج پاکستان نے لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کرتے ہوئے ان سانپوں کو کچلنا شروع کیا تو کچھ مردار اور باقی فرار ہونا شروع ہوۓ۔ اس وقت کے نامور سورمے مارے گئے یا انہوں نے افغانستان کا رخ کیا جبکہ اس سے نچلے درجے کے دہشتگردوں کو ان کے اسپانسرز نے اپنی خاص حکمت عملی کے تحت پاکستان کے شہروں میں روپوش کروایا۔ اور مناسب موقع کی تلاش میں لگے رہے۔
کراچی میں ایک پشتون نوجوانوں نقیب اللہ کا مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے سے وہ موقع بھی آ ملا۔ اس کے بعد ان چھپے ہوئے چوہوں نے اپنے بِلوں سے باہر نکلنا شروع کیا اور پہلے پہل حکومت کے خلاف چھوٹے موٹے احتجاج پھر دنوں ہفتوں میں انتہائی منظم ہو کر ایک نئے نام PTM سے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں پر ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ اب تنظیمی نام کی طرح قیادتی نام بھی قوم پرستی میں تبدیل ہو کر "پشتین، داوڑ، وزیر” ہو چکے تھے۔ ہر گزرتے دن ان کی دشنام طرازی میں اضافہ ہوتا گیا اور پھر کھلے عام ہندوستان اور اسرائیل کی افواج سے مدد مانگنے لگے۔ افواج پاکستان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ سلام ہے وطن کے محافظوں پر جنہوں نے یہ سب کچھ صبر سے برداشت کیا۔
لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے آج جس طرح ان PTM کے مسلح دہشتگردوں نے آرمی چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں پانچ جوان زخمی ہوئے۔ اس کے بعد ان دہشتگردوں کو مزید مہلت دینا اپنے سر پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔ اب مصلحتوں سے باہر نکل کر سوچنا ہو گا۔
خدارا ان آستین کے سانپوں کو کچل ڈالیں اس سے پہلے کہ یہ ناسور بن جائیں۔ ریاست ایسے غداروں کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں ہچکچاتی ہے جو ہمارے شہداء کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ جنہوں نے سانحہ اے پی ایس پشاور جیسے زخم دیے ہمارے مستقبل، پھولوں جیسے بچوں کو اپنے ناجائز آقاؤں کے اشاروں پر مَسل دیا۔ اللہ کے لیے وطن عزیز کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ اور اس ظلم کا سدباب کریں۔

1 تبصرہ
  1. Waseem Khan کہتے ہیں

    Ma sha Allah

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.