کیا کوئی قابل شخص نہیں جو ڈی جی سول ایوی ایشن لگ جائے؟ عدالت کا اظہار برہمی

کیا کوئی قابل شخص نہیں جو ڈی جی سول ایوی ایشن لگ جائے؟ عدالت کا اظہار برہمی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں پائلٹ لائسنس معطلی اور ڈی جی سول ایوی ایشن عدم تعیناتی کیس پر سماعت ہوئی،

عدالت نے کہا کہ بتائیں ڈی جی سول ایوی ایشن کے اہم عہدے پر تعیناتی کیوں نہیں ہوئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومتی نااہلی ہے اہم ترین عہدے پر تعیناتی نہیں ہوسکی ، پائلٹس اور قومی ایئر لائن کے نقصان کے باعث مفاد عامہ کا معاملہ ہے، کیا وفاقی حکومت اتنی اہم ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال نہیں کرنا چاہتی ۔

عدالت نے ڈی جی سول ایوی ایشن کی عدم تعیناتی پر وفاقی حکومت پر اظہار برہمی کیا،عدالت نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے دی جانے والی وجوہات بھی اطمینان بخش نہیں، اس وقت کوئی اتھارٹی نہیں جو پائلٹس کے حوالے سے فیصلے کرے،وفاقی کابینہ نے ہدایت کی ہے یہ کام 60 روز میں مکمل کر لیا جائے گا، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے سیکریٹری سول ایوی ایشن کو ایڈیشنل چارج دیا گیا ،

عدالت نے کہا کہ غیر ذمہ دارانہ بیان کی وجہ سے نیشنل ائیر لائن کا وقار مجروح ہوا ہے، کیا کوئی قابل شخص نہیں جو ڈائریکٹر جنرل لگ جائے؟پائلٹس کے معاملے کو ریگولیٹر نے دیکھنا ہے وفاقی حکومت قابل اطمینان جواب نہیں دے رہی،عدالت کے پاس کوئی تجربہ نہیں کہ وہ اس حوالے سے کوئی ہدایت دے سکیں،اگر ڈی جی سول ایوی ایشن ہوتا تو پائلٹس کا معاملہ دیکھنے کی ذمہ داری بھی اس پر ہوتی،عالمی سطح پر پاکستان کی ائیر لائن پر فوکس ہے،عدالت ایسا کوئی آرڈر جاری نہیں کرے گی جو اس کے دائرہ کار میں نہیں،

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہر پاکستانی کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں ،عدالت نے سیکرٹری سول ایوی ایشن اتھارٹی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،عدالت نے اٹارنی جنرل کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 نومبر تک ملتوی کردی

اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

سال 2020 ایوی ایشن انڈسٹری کے لئے بدترین سال،کس ایئر لائن نے مزید پائلٹ کو نکال دیا؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.