fbpx

بجٹ اجلاس میں شرکت کرنے بارے پیپلزپارٹی نے وقت مانگ لیا

بجٹ اجلاس میں شرکت کرنے بارے پیپلزپارٹی نے وقت مانگ لیا

باغی ٹی وی : پیپلزپارٹی کی جانب سے کنفرمیشن کے بعد کل اپوزیشن چیمبر میں اجلاس ہوگا،پیپلزپارٹی نے کل کے اجلاس میں شرکت کرنے یا نا کرنے سے متعلق وقت مانگ لیا ہے ،

شہبازشریف نے بجٹ سے قبل کل اجلاس بلانے کیلئے مشاورت شروع کردی.اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں .

خیال رہے کہ وفاقی حکومت کا بجٹ کل قومی اسمبلی میں پیش ہونا ہے،بجٹ کے حوالہ سے اپوزیشن جماعتوں کا کوئی مشترکہ لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، بجٹ کے حوالہ سے اپوزیشن جماعتیں بیانات تو دے رہی ہیں لیکن عملی طور پر بجٹ منظور کروانے یا نہ کروانے کے لئے کیا کردار ادا کرنا ہے کیا حکمت عملی ہونی ہے اس پر کوئی بات چیت ابھی تک نہیں ہوئی

پنجاب کا بجٹ کیسے پاس ہو گا؟ گورنر پنجاب متحرک، اہم ٹاسک مل گیا

آئی ایم ایف بجٹ مسترد، فوج کی تنخواہوں میں 175 فیصد اضافہ کیا جائے، بلاول

بجٹ قریب آتے ہیں اتحادی جماعت کو بزدار نے کیا یقین دہانی کروا دی؟

بجٹ کے بعد کونسا وفاقی وزیر استعفیٰ دینے والا ہے؟ مبشر لقمان کا تہلکہ خیز انکشاف

کمپنی کو بجٹ کون دیتا ہے اصل مقصد کیا ہے؟ چیف جسٹس

بجٹ کے حوالہ سے پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بلواسطہ ٹیکس سے 242 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہی، تباہی سرکار اب پیٹرولیم لیوی کو ایف بی آر کی وصولی میں شامل کر رہی ہے، پیٹرولیم لیوی کی رقم این ایف سی میکینزم کے مطابق فیڈرل ڈویژبل پول میں شامل نہیں ہوگی،اپوزیشن عوام دشمن بجٹ کو مسترد کردے گی، کیا آئی ایم معیشت چلائے گی؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا اب میکرو اکنامک شعبے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے،

واضح رہے کہ آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ کل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا وفاقی بجٹ کا حجم 8 ہزار ارب روپے سے زائد ہوگا۔ بجٹ میں 500ٹیرف لائنزختم کرنےکےساتھ ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ زیرغور ہے۔بجٹ خسارہ 35ارب روپے متوقع ہے،دفاع کیلئے 1320ارب روپے مختص کئے جاسکتے ہیں۔آئندہ مالی سال معاشی ترقی کا اندازہ 4اعشاریہ 8فیصد ہوگا،زراعت کا ساڑھے 3فیصد،صنعتی شعبے کا ساڑھے 6فیصداور خدمات کے شعبے کی ترقی کا تخمینہ 4اعشاریہ 8فیصد لگایا گیا ہے۔