fbpx

بجٹ کا حجم 8ہزار 487 ، دوران تقریر اپوزیشن کا شور شرابا

بجٹ کا حجم 8ہزار 487 ، دوران تقریر اپوزیشن کا شور شرابا

باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزرا اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی موجود ہیں۔ وزیرخزانہ نے بجٹ تقریر کا آغاز کیا تواس کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ شروع کر دیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔
فاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں مالی سال 22-2021 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں معیشت کوبحران سےنکال کرلائے۔ ہماری حکومت نے مشکل حالات کا مقابلہ کیا، کشتی کوطوفان سےنکال کرساحل پرلےآئےہیں.بہت زیادہ قرضوں کی وجہ سےدیوالیہ ہونےکےقریب تھے،بجٹ خسارہ تاریخ کی بلندترین سطح 20ارب ڈالرپرتھا،

فاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ معیشت کومضبوط بنیادفراہم کردی گئی ہے،بجٹ خسارےکی وجہ سےعدم توازن کاسامناتھا،بجٹ کاحجم 8ہزار487ارب روپےہوگا،ہمارےاوپربھاری گردشی قرضوں کابوجھ تھا،ہمیں خراب معیشت ورثےمیں ملی،ماضی میں بلاسوچےسمجھےقرضےلیےگئے،
سب سےبڑاچیلنج دیوالیہ ہونےسےبچناتھا،کوروناوباکی وجہ سےمعیشت کومستحکم کرنےمیں وقت لگا،مشکل فیصلےکیےبغیراس صورتحال سےنکلناممکن نہیں تھااخراجات میں کمی اورکفایت شعاری مہم پرعمل پیرارہے.استحکام سےمعاشی نموکی طرف گامزن ہوئے،

ہم معیشت کوترقی کی راہ پرگامزن ہوئے،کوروناوباکی دواضافی لہروں کاسامناکرناپڑا،زراعت کےشعبےمیں تاریخی کامیابی حاصل کی،حکومت میں آئےتوزرعی شعبےمیں ٹڈی دل حملےکاسامناکیا،گزشتہ برس زراعت کےشعبےمیں ترقی کی شرح منفی میں تھی.گزشتہ مالی سال زراعت کےشعبےمیں ترقی کی شرح منفی میں تھی،

فاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ رواں سال زراعت کےشعبےنے 9فیصدترقی کی،صحت کےشعبےمیں خاطرخواہ اقدامات کیے،کم آمدنی والےطبقےکواحساس پروگرام کےذریعےامدادفراہم کی گئی،40ملین افرادکواحساس کےذریعےنقدامدادی رقوم دی گئی،ترسیلات زرمیں ریکارڈاضافہ بیرون ملک پاکستانیوں کاوزیراعظم پراعتمادکااظہارہے،لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہواہے،

ٹیکس وصولیوں میں18فیصداضافہ ہواہے،ٹیکسوں کی وصولی 4ہزارارب روپےکی نفسیاتی حدعبورکرچکی ہے،برآمدات ماضی کےمقابلےمیں بہت زیادہ ہے،برآمدات میں14فیصداضافہ ہوا،ادائیگیوں کےتوازن میں استحکام پیداکیاغذائی اجناس درآمدکرنےکی وجہ 2019میں کم پیداوارتھی،زرمبادلہ کےذخائر16ارب ڈالرہوگئےہیں،

فاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ زرمبادلہ کےذخائر3ماہ کی درآمدات کیلئےکافی ہیں،اسٹیٹ بینک سےبےتحاشاقرضےلیکرریت کاگھرتعمیرکرنامہنگاپڑا،
کرنٹ اکاوَنٹ خسارے پر پوری طرح قابو پالیا گیا ہے،ہمیں اپنےملک کوغذائی ضروریات کےقابل بنانا پڑے گا، کولڈاسٹوریج اورکھیتوں سےمارکیٹ تک روڈتعمیرکرنےکی ضرورت ہے،معاشی ترقی کاہدف 4اعشاریہ 8فیصد رکھا ہے،معاشی ترقی کاہدف4اعشاریہ8فیصدسےبھی زیادہ رہنےکی توقع ہے،معاشی ترقی کےثمرات غریب عوام تک پہنچیں گے،6ملین گھرانوں کو5لاکھ تک قرضےدینگے،

فاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ غریبوں کوگھربنانےکیلئے20لاکھ روپےتک قرضےفراہم کرینگے،عمران خان ریاست مدینہ کاوعدہ پوراکرینگے،آبادی کا65فیصدحصہ 30سال سےکم عمرافرادپرمشتمل ہے،نوجوانوں کےروزگارکیلئےخصوصی اقدامات کیےجائیں گے.آئی ایم ایف پروگرام سےبچنےکیلئےاقدامات کرینگے،روزگارکےمواقع پیداکرنےکیلئےصنعتی شعبےکوخصوصی مراعات دینگے.

فاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ایک کروڑمکانات کی تعمیرکیلئےخصوصی قرضےفراہم کرینگے.نیاپاکستان ہاوَسنگ پراجیکٹ کیلئےٹیکسوں میں خصوصی رعایت دینگے،پاکستان میں پہلی بارمورگیج فنانسنگ شروع کی گئی ہے،ڈالر155روپے کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے،گردشی قرضوں کےخاتمےکیلئےمنصوبہ بندی کررہےہیں.

گردشی قرضوں کےخاتمےکیلئےمنصوبہ بندی کررہے ہیں،کسانوں کو3100ارب روپےکی آمدن ہوئی.پچھلےسال کسانوں کی آمدن2300ارب روپےتھی.احساس پروگرام کیلئے260ارب روپےرکھنےکی تجویزہے،ہمیں مہنگائی کےدباوَکاسامناہےجس پرقابوپانےکی کوشش کررہے ہیں.عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں180فیصداضافہ ہوا،

اگلےمالی سال زرعی شعبےکیلئے12ارب روپےمختص کررہےہیں،چاول ،گندم،کپاس اوردالوں کی پیداوارمیں اضافےکیلئے2ارب روپےمختص کیے گئے . زیتون کی کاشت بڑھانےکیلئے1ارب مختص،آبی گزرگاہوں کی مرمت کیلئے3ارب مختص کیا گیا. داسوہائیڈروپاورپراجیکٹ کےپہلےمرحلےکیلئے57ارب ،دیامربھاشاکیلئے23ارب مختص کیے .

فاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ نیلم جہلم پاورپراجیکٹ کیلئے14ارب روپےرکھےگئےہیں،سی پیک میں13ارب ڈالرکے17بڑےمنصوبےمکمل کرلیےگئےہیں،سی پیک کےتحت 21ارب ڈالرمالیت کےمزید21منصوبوں پرکام جاری ہے،اسلام آبادویسٹ اورلاہورنارتھ ٹرانسمیشن لائن کیلئےساڑھے7ارب مختص کیے . داسوسے2160میگاواٹ بجلی پیداکرنےکیلئےساڑھے8ارب مختص کیےگئےہیں،سُکی کناری کہالہ ہائیڈروپاورپراجیکٹ کیلئےساڑھے5ارب مختص کیےگئےہیں،

فاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ حیدرآبادسکھرٹرانسمیشن لائن کیلئے12ارب مختص کیےگئےہیں،کراچی میں کےون اورٹواورتربیلا فائیو منصوبے کیلئے ساڑھے 16ارب مختص کیےہیں،جامشورومیں کوئلےکی مدد سے1200میگاواٹ بجلی پیداکرنےکیلئے22ارب مختص کیے،جنوبی بلوچستان کےترقیاتی پروگرام کیلئے20ارب رکھےجارہےہیں،جنوبی بلوچستان کاترقیاتی پروگرام 601ارب روپےکی لاگت سےمکمل ہوگا،

فاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان 739ارب روپےکےحجم پرمبنی ہے،کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کیلئےوفاقی حکومت98ارب روپےدی گی،کراچی ٹرانسفارمیشن کیلئےسپریم کورٹ فنڈکے125ارب بھی شامل ہوں گے،سرکاری اورنجی شعبےکےاشتراک سے509ارب روپےخرچ ہو نگے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.