fbpx

بجٹ میں‌ تعلیم کے لیے صرف 4 فیصد ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

بجٹ میں‌ تعلیم کے لیے صرف 4 فیصد ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

باغی ٹی وی : آج حکومت بجٹ پاس کرنے جارہی ہے ۔ حکومت اپنا تیسرا بجٹ پیش کرنے جارہی ہے ، لیکن اس وقت سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پرٹرینڈ چل رہا ہے جس کا عنوان ہے #چار_فیصد_تعلیم_کا ، حکومت اس سلسلے میں تعلیم کے لیے کتنا بجٹ مختص کر ہی ہے یہ جان کر سب کا مایوسی ہوئی ، اور اس حکومت کے کی ترجیحات دوسری جماعتوں سے مختلف تھیں ، لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ ا س حکومت نے بھی وہی کچھ کیا جو پہلے ہوتا چلا آیا ہے .

لیکن تعلیم کی مد میں صرف اتنا سا بجٹ مختص کر کے پی ٹی آئی کے حکومت نے بھی دیگر جماعتوں کا کردار ادا کیا ہے ۔ اس ٹرینڈ کو اسلامی جمیعت طلبہ چلا رہی ہے اس سلسے میں اسلامی جمعیت طلبہ کے قائدین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعلیم حکمرانوں کی ترجیح میں شامل نہیں ہے۔ وفاقی بجٹ اس افسوسناک رویے اور پالیسی کا عکس ہے۔ موجودہ حکومت کے گزشتہ تین سالوں میں تعلیمی بجٹ میں اضافے کے بجائے مسلسل کمی ہوتی جارہی ہے۔ انتظامی امور اور تنخواہوں کے بجٹ میں مسلسل کمی ہوئی ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔

یونیورسٹیوں کی گرانٹ میں کمی کا نتیجہ فیسوں میں بے تحاشا اضافے کی صورت میں نکلا ہے، جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات شدید مشکلات کا شکار ہوئے ہیں ۔ حمزہ محمد صدیقی نے کہا کہ ایچ ای سی نے مالی سال 2020 – 21 کے لیے 104.789 بلین کا انتظامی بجٹ حکومت سے طلب کیا تھا، لیکن حکومت نے اس کی فراہمی میں پہلو تہی سے کام لیا۔ ناظم اعلی نے مطالبہ کیا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں ایچ ای سی کے لیے 150 ارب روپے مختص کیے جائیں تاکہ جامعات کو مالی بحران سے نکالا جا سکے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.