fbpx

بجٹ ..قوم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

بجٹ ..قوم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

بجٹ پاکستان تحریک انصاف کا تو امتحان ہے ہی ۔ مگر اس قوم کے لیے بھی ایک امتحان ہے ۔

۔ یہ تو کل قومی اسمبلی کے ایوان سے معلوم ہوجائے گا کہ غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں مزید کتنا اضافہ ہوگا ۔ کل 22کروڑ پاکستانیوں کو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ اس
8000ارب روپے کے بجٹ میں امراء کی ناز برداری کے لئے مزید کیا کیا کچھ ہے۔کیونکہ عوام تو پہلے سے ہی مشکل حالات کا شکار تھے آئندہ بھی اچھے کی کوئی امید نہیں ہے۔۔ کیونکہ جب وزیر خزانہ شوکت ترین یہ کہتے ہیں کہ چینی کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 58 فیصد بڑھی اور پاکستان میں 20 فیصد قیمت میں اضافہ ہوا، تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ وہ شوگر مافیا کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں نہ کہ عوام کا ۔

۔ شوکت ترین نے توآج یہ بڑھک مار دی ہے کہ آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے کہ ہم تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ ہم اور ذرائع سے ریونیو بڑھائیں گے۔ پر میں آپکو بڑی تسلی سے اور تصدیق سے بتا رہا ہوں یہ بیان دل کو بہلانے کے لیے تو بہت اچھا ہے ۔ مگر اصل حقیقت یہ نہیں ہے ۔ ۔ کیسا عجیب نظام ہے کہ حکومت نئی آٹو پالیسی متعارف کرنے سے پہلے تو آٹو انڈسٹری کے تمام مافیاز سے مشاورت کرتی ہے ۔ ایسا ہی شوگر مافیا کے ساتھ کرتی ہے ۔ آٹا مافیا ، ادویات مافیا ۔ جس بھی مافیا کا نام لیں اس کی مرضی کے بغیر نہ تو کوئی پالیسی آتی ہے نہ ہی کوئی قانون بنتا ہے ۔ مگر جن کے ووٹ لے کر یہ آج پروٹوکرل والی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے اور اتراتے پھرتے ہیں ۔ ان ووٹروں کے مفادات کا بالکل خیال نہیں رکھتے ۔ نہ ہی ان کے مستقبل کے فیصلے کرتے ہوئے ان سے مشاورت کرتے ہیں ۔ ۔ اربوں روپے مالیت کا بلاواسطہ ٹیکس ایک بار پھر غریب عوام پر عائد کیا جائے گا۔ تباہی سرکار مہنگائی، بےروزگاری، غربت کاذمہ دار آئی ایم ایف کو ٹھہرا رہی ہے۔ پر یہ سب کچھ بدترین گورننس کو چھپانے کا ڈرامہ ہے ۔ 90 دن میں نیا پاکستان بنانے والوں کو 1000 دن ہو گئے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان۔۔ سرکار اب بجٹ اجلاس میں مشکوک اعداد و شمار پیش کرےگی۔۔ کیونکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی منتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ بجٹ ہم اپنی مرضی سے پیش کریں گے۔ دراصل وزیر خزانہ شوکت ترین اور آئی ایم ایف کے نمائندوں کے مابین مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے بجٹ تقریباً مسترد کر دیا گیا ہے۔ اب وزیراعظم صاحب اگلے ہفتے آئی ایم ایف کے صدر سے میٹنگ کریں گے۔

۔ حقیقت میں حکومت نے عوام کو دکھ کے علاوہ کچھ نہیں دیا ہے ۔ ملک میں بجلی ہے نہیں ہے ۔ ریٹ بڑھا دیئے گئے ہیں ۔ فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس ڈیزل پر چلائے جا رہے ہیں۔
سعودی عرب اور کویت بھی ڈیزل کے پلانٹ نہیں چلاتے لیکن پاکستان میں چل رہے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں اتنی مہنگی بجلی بنائی جا رہی ہے ۔ گردشی قرضہ 150 فیصد بڑھ گیا ہے ۔ عوام آج بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں۔ سکولوں میں بچے بے ہوش ہو رہے ہیں۔ وزارت توانائی میں ساتویں وزیر مقرر کئے جاچکے ہیں۔ اب اس حکومت کو نااہل نہ کہیں تو کیا کہیں ۔۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی منظوری کے بغیر پیش کر کے عوام کی نظروں میں ہیرو بننے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن یاد رہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کی اقساط کے حصول کے لیے پاکستان کو منی بجٹ پیش کرنا پڑسکتا ہے۔ پھر عوام کو بتایا جائے گا کہ ہم تو آپ کی بہتری چاہتے ہیں، سارا قصور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کا ہے۔ وہی ملک میں مہنگائی کا ذمہ دار ہے۔۔ اس وقت فرٹیلائزر پر سیلز ٹیکس دو فیصد ہے۔ اسے بڑھا کر دس فیصد کر دیا جائے جس سے 32 ارب روپے اضافی ٹیکس اکٹھا ہو گا لیکن اس سے عام آدمی کے لیے خوراک مزید مہنگی ہو جائے گی یعنی حکومت جو اگلے سال مہنگائی کی شرح آٹھ فیصد تک لانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ سب ڈھکوسلا ہے ۔اس کے علاوہ rude oil کی در آمد پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔ جس سے ایک اندازے کے مطابق 85 بلین روپے ٹیکس اکٹھا ہو سکے گا۔ اس سے ہوگا کیا تیل مہنگا ہوگا ۔ اور تیل مہنگا ہونے سے سب کو پتہ ہے کہ مہنگائی مزید بڑھے گی ۔

۔ ایک اور غریبوں کے لیے جو فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے تجویز دی ہے کہ بینکوں سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی جائے جس سے تقریباً دو ارب روپے اضافی ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے گا۔ اس سے ہوگا یہ کہ جو غریب ، بزرگ ، بیوائیں ۔ قومی بچت کے بینکوں سے کچھ منافع کما کر گزر بسر کر رہے ہیں۔ ان کے حالات مزید تنگ ہوجائیں گے ۔

۔ پھر ایک نیپرا آرڈیننس ہے جس کو پارلیمنٹ سے پاس کرانے کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے زور دیا جا رہا ہے ۔ اس آرڈیننس کے تحت اپریل 2021ء سے جون 2023ء تک پانچ اعشاریہ پینسٹھ روپے فی یونٹ ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا جس سے 884 بلین روپے صارفین کی جیبوں سے نکالنے کا پلان ہے ۔ ۔ حکومت کا اس سلسلے میں موقف ہے کہ یہ اضافہ اس صورت میں کیا جائے گا جب حکومت سستی بجلی پیدا کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام ہو جائے گی۔ پر یہاں پر ایک سوال ہے کہ جب یہ حکومت کسی بھی سیکٹر میں کوئی کارکردگی نہیں دیکھا پائی تو یہاں کیا تیر مار لینا ہے ۔ تو سمجھیں یہ آپکو دینا ہی ہوگا ۔ ۔ وزارتِ خزانہ اور آئی ایم ایف کی چھٹی رِیویو میٹنگ ہونی ہے جس میں پاکستان کو مزید ایک بلین ڈالر قسط دینے پر غور کیا جائے گا۔ تو یاد رہے کہ نیپرا آرڈیننس کی منظوری، قرضوں کے حجم میں کمی اور ٹیکسز میں اضافے کے وعدوں کی تکمیل کے بغیر ایک ارب ڈالر قسط ملنا ناممکن ہے۔

۔ حکومت 4000 ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا بڑا کارنامہ انجام دینے کا اعلان تو کرچکی ہے۔ جب کہ ٹیکس کا 80 فیصد indirect taxation سے وصول کیا جاتا ہے اور direct taxation 20 فیصد سے بھی کم وصول ہوتی ہے۔ جاگیرداروں، بڑے سرمایہ داروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں سے دولت ٹیکس اور ان کے منافع پر ٹیکس نہیں وصولا جاتا۔ بلکہ عوام کی ہر ضرورت اور خورونوش کی اشیا پر ٹیکس عائد کردیا جاتا ہے۔۔ جب اشیا ضرورت کی فیکٹریوں کی پیداوار پر ٹیکس لگے گا تو فیکٹری مالکان اشیا کی قیمت بڑھا دیں گے۔ پھر ہول سیلرز بھی اس کی قیمت بڑھائے گا اور پرچون فروش بھی قیمت میں اضافہ کرے گا۔ آخر کار ان ٹیکسوں کا تمام تر بوجھ عوام کے کاندھوں پر آئے گا۔ اس طرح سے حکومت کا یہ کہنا کہ عوام کے استعمال کی اشیا پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے۔ سب جھوٹ ، سب دھوکہ ، سب ایک فراڈ ہے ۔۔ اب سب پی ٹی آئی والے مجھے طعنے دیں گے ۔ ٹویٹر ، فیس بک ، یوٹیوب پر برا بھلا کہیں گے ۔ مگر میں بتاؤں کہ دور چاہے پیپلز پارٹی کا ہو یا ن لیگ یا پی ٹی آئی کا میرا کام ہے اپنےviewers کو حق وسچ بتانا ۔ ہاں جب جب یہ حکومت اچھا کام کرے گی وہ بھی بتاؤں گا مگر جب یہ کام ٹھیک نہیں کریں گے تو میں ان کو بھی exposeکروں گا کیونکہ مجھے ہے ۔۔۔ حکم اذان ۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.