fbpx

سری لنکا:برقعہ پرپابندی،مسلمانوں میں شدیدغم وغصہ :سری لنکن مسلمانوں نےعمران خان پرامیدیں لگالیں

کولمبو:سری لنکا میں برقعہ پر پابندی، مسلمانوں میں شدید غم و غصہ:سری لنکن مسلمانوں نے عمران خان پرامیدیں لگالیں ،اطلاعات کے مطابق سری لنکا کابینہ میں برقعہ پر پابندی کی تجویز منظور ہونے کے بعد سری لنکا کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

سری لنکا کی کابینہ نے منگل کے روز قومی سلامتی کے لیے لاحق خطرات کا بہانہ بنا کر عوامی مقامات پر ہر طرح کے چہروں کے پردے بشمول برقعے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز کی منظوری دی تھی۔

سری لنکا کے وزیر برائے عوامی تحفظ سارت ویرسکارا (Sarath Weeraskara) نے مارچ میں پہلی بار اس پابندی کا اعلان کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ برقعہ جیسا لباس مذہبی انتہا پسندی کی علامت ہے۔

ادھر کولمبوسے ذرائع کے مطابق سری لنکن مسلمانوں نے وزیراعظم عمران خان سے امیدلگاتے ہوئے اس مسئلے کوسری لنکن حکومت سے اٹھانے کا مطالبہ کردیا ہے

یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ سری لنکن مسلمانوں کا خیال ہےکہ دنیا میں اگرکوئی ان کے پیچھے والی وارث ہے تووہ عمران خان ہی جس نے سری لنکا حکومت کے سامنے ہمارے حقوق کی جنگ لڑی اوربہت سے معاملات پرریلیف لے کردیا ہے

یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ ان مسلمانوں نے دیگرمسلم دنیا کے حکمرانوں کے رویے اوربے حسی پرسخت پریشان ہیں اوراب ان کے سامنے صرف ایک ہی امید ہے اوروہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان ہی ہیں‌

یاد رہے کہ سری لنکا میں ماضی میں بھی کئی پالیسیوں کے ذریعہ مسلمان آبادی کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ مارچ 2020 میں حکومت نے یہ حکم دیا تھا کہ کووڈ۔19 سے متاثر ہو کر مرنے والے مسلمانوں کی لاشوں کو دفنانے کے بجائے جلایا جائے۔

جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ سری لنکا کے دوران سری لنکن حکومت سے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کوختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا ،اس کے بعد حکومت نے رواں برس فروری میں ہی لاشوں کی تدفین پر پابندی ختم کردی کیونکہ لاشوں کو جلانا اسلامی عقائد کے منافی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.