برقع پہن کر خواتین سے نازیبا حرکات کرنیوالے اوباش نوجوان کی عوام کے ہاتھوں درگت

0
59

گوجرانوالہ: برقع پہن کر خواتین سے نازیبا حرکات کرنے والا اوباش نوجوان شہریوں کے ہتھے چڑھ گیا-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ میں برقع پہن کر خواتین سے بدتمیزی کرنے والے اوباش نوجوان کی درگت بنا کر پولیس کے حوالے کردیا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ڈسکہ کا رہائشی عمر نامی نوجوان برقع پہن کر بازار میں گھوم رہا تھا اور خریداری کے لئے آنے والی خواتین کو چھیڑتا اور ان کے ساتھ نازیبا حرکات کررہا تھا، تاہم شہریوں اور دکانداروں نے برقع پوش شخص کو پکڑ لیا اور اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کے حوالے کردیا-

تھانہ کوتوالی پولیس نے عمر عدیل کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

دوسری جانب بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ویڈیو اسکینڈل، ایک اور لڑکی نے ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرا دیا ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ، ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے، ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، جو تحقیقات کر رہی ہے، گرفتار ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں،ملزمان خواتین کو ملازمت کا جھانسہ دے کر انکی نازیبا ویڈیوز بنایا کرتے تھے

برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

کوئٹہ میں 200 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلرہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا،سینکڑوں طالبات کو اپنے پیسے اور سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرکے نوکری کا لالچ دیا اور انہیں نشہ کی لت میں ڈال کر نازیبا ویڈیوز بنائیں جن کے ذریعے بعد میں انہیں بلیک میل کرکے اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا، اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی.

اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا. ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں

ایک اور یونیورسٹی تقریب میں لڑکے کی جانب سے لڑکی کا لباس پہن کر ڈانس کی ویڈیو…

ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں ان میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا.

کراچی میں بیوی شوہر کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد آرام سے سو گئی

ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ خدارا اب سزا دیں کب تک قانون بنتیں رہیں گے، کب یہ اندھی، گونگی، بہری عدلیہ جاگے گی، کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے، کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے، کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی، خدارا لٹکا ایسے لوگوں کو، ان کے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے-

ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ…

Leave a reply